لاہور(خبرنگار) ماہرین نےکہا ہے کہ خواتین خوف، بدنامی یا معاشرتی دباؤ کے باعث طبی معائنے یا علاج میں تاخیر سے اجتناب نہ کریں۔ نجی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام پنک ٹوبر کے سلسلے میں بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طبی ماہرین، اساتذہ اور دیگر مقررین نے مرض کی بروقت تشخیص، علاج، جذباتی معاونت اور اس سے وابستہ معاشرتی مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے خواتین پر زور دیا کہ وہ خوف، بدنامی یا معاشرتی دباؤ کے باعث طبی معائنے اور علاج میں تاخیر سے اجتناب نہ کریں۔ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی (پی ڈبلیو پی اے) کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں روزانہ تقریباً 84 بریسٹ کینسر کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ انہوں نے مریضوں کو بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر ریفرل نظام قائم کرنے، مفت اسکریننگ کی سہولیات کے فروغ اور طلبہ کو اپنے خاندانوں اور معاشرتی حلقوں میں آگاہی پھیلانے کی ترغیب دینے پر زور دیا۔