آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قومی ٹیسٹ ٹیم کے قائد اظہر علی سے بات چیت

پاکستان کرکٹ کا حال قومی سیاست سے مختلف نہیں ہے۔کل کے دوست آج کے دشمن بن جاتے ہیں اور آپ جس کو دوست سمجھ رہے ہوں وہ دوسروں کے ساتھ مل کر آپ کے اقتدار کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔چند دن پہلے جب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی ایک ویڈیو کانفرنس میں یہ بات کہہ رہے تھے کہ میں باختیار کپتان ہوں اور ٹیم میں پندرہ کھلاڑی اور گیارہ کھلاڑی میری مرضی سے منتخب ہوتے ہیں میری اور مصباح الحق کی کیمسٹری ملتی ہے۔یہ سنتے ہی میں سوچ میں پڑ گیا کہ شائد سرفراز احمد اپنے دوست سے دھوکا کھا گئے۔سرفراز احمد جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دھوکا نہیں دے گا لیکن اظہر علی نے سلیکشن کمیٹی اور مصباح کے سامنے سرفراز احمد کا کیس لڑنے سے گریز کیا۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے پاکستان کرکٹ ایسی بہت ساری کہانیوں سے بھری ہوئی ہے۔اظہر علی جو سرفراز احمد کے اچھے دوست تھے ان کے کیس کو درست انداز میں پیش نہیں کرسکے۔حالانکہ کیپ ٹاون میں جنوبی افریقا کے خلاف آخری ٹیسٹ میں سرفراز احمد نے دس کیچ لئے تھے اور پچاس رنز بنائے تھے۔لیکن انہیں وسیم خان اور مصباح الحق نے احسان مانی سے مشورے کے بعد دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا۔بظاہر اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ اظہر علی کو خود ایسے وقت میں کپتانی دی گئی جب ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر تھی۔وہ میڈیا پر جو چاہیں کہہ دیں ان کا اپنا کیس اس قدر کمزور تھا کہ وہ سرفراز احمد کے لئے کیسے لڑتے۔پھر مصباح جب کپتان تھے اور وقار یونس اس وقت ہیڈ کوچ تھے دونوں نے سرفراز احمد کے ساتھ جو سلوک کیا اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے یہ سب اب تاریخ کا حصہ ہے۔

گذشتہ ہفتے جب ایک اور ویڈیو کانفرنس میں بولنگ کوچ وقار یونس جس انداز میں سرفراز احمد کی پی ایس ایل کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے رہے تھے اس وقت بھی وقار یونس کے دل کے اندر سے جو بات نکل رہی تھی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وقار یونس سرفراز احمد کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔35سالہ اظہر علی نے دسمبر2018میں نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں 134رنز بنائے اور اپنی سولہویں اور ابھی تک کی آخری سنچری سری لنکا کے خلاف کراچی میں دسمبر2019کو بنائی۔اس درمیان انہوں نے 13ٹیسٹ اننگز میں 121رنز بنائے جس میں وہ تین بار صفر پر آوٹ ہوئے لیکن کرکٹ چلانے والے ان کی کارکردگی کو نظر انداز کرکے ان پر کھلا اعتماد کرتے رہے۔اظہر علی نے اعتراف کیا کہ گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے میری کارکردگی پر فر ق پڑا۔یہ انجری ایسے وقت میں آئی جب میری کارکردگی عروج پر تھی۔گھٹنے کی انجری کی وجہ میری کارکردگی خراب ہوئی میں ون ڈے فارمیٹ سے ڈراپ ہوا اور پھر میں نے ریٹائر منٹ لے لی۔انجری کے باوجود میں محنت کررہا ہوں۔میں سال ڈیڑ ھ سال سے اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکا لیکن قسمت میرا ساتھ نہیں دیتی اچھا کھیل کر آوٹ ہوجاتی ہے۔اظہر علی نے کہا کہ فی الحال ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ڈومیسٹک میں تمام فارمیٹ میں کھیلتا ہوں۔اظہر علی نے کہا کہ میں فریش آئیڈیا ز پر کام کررہا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ خوف زدہ ہوکر کوئی کھلاڑی نہ کھیلے۔میں چاہتا ہوں کہ ڈریسنگ روم میں ہوں یا نہیں ،ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا ہو۔ریلکس ماحول ہی ٹیم کو اوپر لے جاتا ہے۔ٹینس ماحول میں ٹیم گر جاتی ہے اور کھلاڑی ڈریسنگ روم میں چھپ جاتے ہیں اچھے فیصلوں سے ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل آتا ہے۔انڈر پریشر ماحول میں ٹیم کو کھڑا کرنا ہوتا ہے لیکن ذمے داری لینا بے حد ضروری ہے۔کھلاڑی کو خود ہی ذمے داری لینا ہوتی ہے۔اظہر علی نے کہا کہ موجودہ حالات میں حالات سب کے لئے برابر ہیں۔اگر یہ حالات طول ہوتے ہیں تو پھر مشکل پیش آسکتی ہے۔پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی کا دعوی ہے کہ میں اس وقت با اختیار کپتان ہوں اور ہیڈ چ مصباح الحق مجھ پر اثر انداز نہیں ہوتے ۔ہم دونوں کی کیمسٹری بھی ملتی ہے۔مجھے مکمل اختیارات ہیں تو ہیں،مجھے پندرہ کھلاڑی کی سلیکشن یا گیارہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں کبھی کوئی مسلہ نہیں رہا۔ نہ دفاعی کپتان ہوں،گھٹنے کی انجری کی وجہ میری کارکردگی خراب ہوئی میں ون ڈے فارمیٹ سے ڈراپ ہوا اور پھر میں نے ریٹائر منٹ لے لی۔ اب ون ڈے سے ریٹائر منٹ واپس نہیں لینا چاہتا۔

پاکستان کی جانب سے78ٹیسٹ کھیلنے والے اظہر علی یہ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں کہ وہ دفاعی کپتان ہیں ان کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس میں یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ میں دفاعی کپتان ہوں یا میرا انداز جارحانہ ہے۔ میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کے مکمل اختیارات والا کپتان ہوں کہ مجھے ٹیم سلیکشن میں کوئی مشکل پیش نہیں آرہی میں اور مصباح باہمی رضامندی اور اتفاق سے ٹیم تشکیل دیتے ہیں۔ماضی کا تجربہ کچھ مختلف تھا مجھے کوچ کے ساتھ ساتھ سلیکٹرز کو بھی قائل کرنا ہوتا تھا اس بار مصباح کے ہیڈ کوچ بننے سے معاملات مختلف ہیں۔ماضی میں کھلاڑی پندرہ میں نہیں ملتا تھا تو گیارہ میں کس طرح کھلاسکتے تھے۔اس بار مصباح کی موجودگی میں مجھے اس لئے فائدہ ہوا ہے کہ میں نے زیادہ تر کرکٹ ان کے ساتھ کھیلی ہے آسٹریلیا کے دورے سے اب تک مجھے سلیکشن میں کوئی مسلہ درپیش نہیں ہے۔بعض دفعہ وہ مجھے قائل کر لیتے ہیں اور کبھی میں انہیں قائل کر لیتا ہوں۔سابق کھلاڑی ہونے کے ناتے سے وہ ہر چیز کو سمجھتے ہیں۔باہمی رضامندسے ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے 42کی بیٹنگ اوسط سے 5919رنز بنانے والے اظہر علی کو پنک بال پر پہلی ٹرپل سنچری اور آسٹریلیا کے خلاف میلبورن میں ڈبل سنچری بنانے کا اعزاز ہے لیکن ان کی کوئی ایسی اننگز نہیں ہے جسے عظیم کھلاڑیوں کی یادگار اننگز کی طرح یادگار اور نا قابل فراموش قرار دیا جائے۔اظہر علی کا کہنا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں کوئی اختلاف نہیں ہے دونوں کی مرضی سے ٹیم بنتی ہے۔مجھے نہیں پتہ کہ اس قسم کے سوالات سے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اور ہیڈ کوچ الگ الگ پیج پر ہیں۔جہاں انہیں لگتا ہے کہ میری رائے میں وزن ہے تو وہ مجھے اہمیت دیتے ہیں مسلہ ایک دو کھلاڑیوں پر ہی ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گراونڈ میں تم نے ٹیم لڑانی ہے اس لئے وہ میری بات مان جاتے ہیں ویسے ان کے ساتھ اختلاف ہوتا ہی نہیں ہے۔سخت فیصلے کرتے ہیں گیارہ بناکر پندرہ سلیکٹ کرتے ہیں تاکہ ہر کھلاڑی کا بیک اپ موجود ہو۔انہوں نے کہا کہ وقار یونس پہلے ہیڈ کوچ تھے اب بولنگ کوچ کی حیثیت سے ان کا کردار مختلف ہے بولروں کے حوالے سے ان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔اظہر علی نے کہا کہ مصباح بھائی ٹھنڈے مزاج کے کوچ ہیں ۔وقار یونس کا انداز مختلف تھا۔

دونوں پاکستان کرکٹ کے بڑے نام ہیں ہر شخص الگ انداز میں کام کرتا ہے لیکن دونوں ٹیم کو جتوانے کے لئے کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے دفاعی کپتان کہنے والوں کے تاثر کو غلط ثابت کر نا مشکل ہے دراصل ہم جلدی رائے قائم کر لیتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بیٹنگ ٹھنڈی کرتا ہوں تو کپتانی بھی مصباح انداز میں دفاعی کرتا ہوں۔مصباح کی کپتانی میں مجھے بھی غصہ آتا تھا لیکن کپتان جارح مزاج اسی وقت بنتا ہے جب اس کے پاس بولر ورلڈ کلاس ہوں۔آسٹریلیا کے پاس جب میک گرا اور شین وارن تھے تو کپتان کو کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔دبئی میں چار سلپ نہیں لگائی جاسکتی۔یہ تاثر غلط ہے لیکن اسے حالات اور وقت ہی غلط ثابت کرے گا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید