• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

علیحدہ سیکریٹریٹ: کیا توقعات پر پورا اترے گا؟

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے دوبڑے افسر تو تعینات کردیئے گئے ہیں،مگر ابھی تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا کوئی باقاعدہ سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ،افسروں کی تقرری کے جوآرڈر جاری کئے گئے ہیں ،ان میں بھی ’’سیکرٹریٹ ‘‘ کے لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا ،اس میں کیا مصلحت یا مجبوری ہے ،یہ تو وقت ہی بتائے گا ،تاہم اس معاملے کو جس طرح نمٹایا جارہا ہے ،اس سے لگتا ہےکہ حکومت نے دباؤ کی وجہ سے جلدبازی میں ایسے فیصلے کئے ہیں ،جو اسے فائدے کی بجائے نقصان دے سکتے ہیں ،حقیقت یہ ہے جس قسم کی پرانتشار صورتحال حکومت کے اس اعلان سے پیدا ہوئی ہے ،جواس نےجنوبی پنجاب میں علیحدہ انتظامی یونٹ قائم کردیا ہے۔

اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی ،ایک طرف اس انتظامی یونٹ کے لئے جس کا ابھی باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا ،تین ڈویژنوں کو کیمپ دفاتر کے ذریعے چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ،جو بذات خودایک ایسا بھونڈا خیال ہے کہ جو یہاں کے عوام کو کوئی سہولت بہم پہنچانے کی بجائے مذید مشکلات میں ڈال سکتا ہے ۔جنوبی پنجاب کے لئے مقررکردہ دو بڑے افسران ملتان آئے ،تو انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کی بابت جو لائحہ عمل بتایا ،اس کی شاید پاکستان کی تاریخ میں مثال ہی نہیں ملتی ،’’موبائل ‘‘ حکومت کا یہ نیا آئیڈیا کس ذہن رسا کا کرشمہ ہے اس بارے میں بھی راز ابھی نہیں کھلا، لیکن ایک بات طے ہے کہ اس سارے عمل کے پیچھے سیاسی مقاصد نظر آتے ہیں۔

جن کا عوام کے مسائل سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری زاہد اخترزمان نے صحافیوں کو یہ بتایا کہ وہ تین دن ملتان اور دو دن بہاول پور بیٹھا کریں گے ،تو ایک صحافی نے لقمہ دیا کہ ڈیرہ غازی خان والے کہاں جائیں گے ،تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اس میں سے ایک دن ڈیرہ غازی خان کے لئے رکھ لیتے ہیں ،گویا نہ تو اس کا پیپر ورک کیاگیا ہے ، نہ اس منصوبے کی تیاری کی گئی ہے ،نہ ہی کوئی لائحہ عمل بنایا گیا ہے ،بس اس سیاسی دباؤ کو ختم کرنے کے لئے جو پچھلے دوسال سے تحریک انصاف کی حکومت پر چلا آرہا تھا ،یکم جولائی 2020ء سے علیحدہ سیکرٹریٹ کے آغاز کا اعلان کردیا گیا ،کیا بغیر حدود کا تعین کئے ،بغیر قواعد وضوابط بنائے اور بغیر فنانشل پاور کے کوئی علیحدہ یونٹ قائم کیا جاسکتا ہے ؟ان تینوں معاملات میں فی الوقت کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ،کیا جو دو افسران ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی تعینات کئے گئے ہیں وہ سب کچھ بنائیں گے ؟ 

کیا ان کے اختیار ات میں یہ سب کچھ دے دیا گیا ہے ؟کیا یہ کام حکومت پنجاب کو نہیں کرنا چاہئے تھا ؟ اگر کوئی کل اٹھ کر یہ سوال کردے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے ،تو کیا کسی کے پاس اس کا جواب ہے ؟ صرف ایک اعلان کے ذریعے یہ قدم اٹھا لیا گیا ہے اور اس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ اپنے انتخابی منشور میں تحریک انصاف نے جس علیحدہ صوبہ کا وعدہ کیا تھا ،اسے مزید تین سال گذارنے کے لئے ایک نیاشوشہ چھوڑ دیا گیا ہے،اگر حکومت واقعی ہی اس معاملے میں سنجیدہ ہوتی ،تو باقاعدہ ایک صدر مقام کا تعین کرتی اور اس کانوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جاتا ، سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی یہ ایک سازش ہے ،کیونکہ اس کے ذریعےجنوبی پنجاب میں اختلافات کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ،ایک انتشار پیدا کیا جارہا ہے۔

اس خطہ کے عوام کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش ہورہی ہے ،بہاول پور اور ملتان میں اس متنازعہ سیکرٹریٹ کو تقسیم کرکےدرحقیقت اس بات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہاں علیحدہ صوبہ کے لئے اتفاق اور فضا موجود نہیں ہے اور جن تین ڈویژنوں یعنی  ملتان ، بہاول پور ،ڈیرہ غازی خان ،کو اس صوبہ کی بنیاد قراردیا جاتا ہے ،وہاں کی سیاسی قوتیں اس معاملے پر دست و گریباں ہیں ،سوال یہ کہ یہ بے ڈھنگاتجربہ کیوں کیا جارہا ہے ؟اگر عوام کے مسائل کو افسروں کے دست نگر بنانا ہے اور عوام کویہ مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل آئی جی کے آنے کا انتظار کریں ،تو اس سے کہیں بہتر تو وہی نظام ہے ،جو پہلے سے چلا آرہا ہے اس میں لوگوں کو یہ علم تو ہے کہ سب کچھ لاہور میں موجود ہے اور وہ اپنے کا م یا دادرسی کے لئے وہاں پہنچیں گے تو ان کا مسئلہ حل ہوجائے گا ۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو اپنا بہت بڑا کریڈٹ بنا کر وزیراعلیٰ عثمان بزدار بلند بانگ دعوے تو کررہے ہیں۔ 

لیکن انہیں شاید اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کے اس فیصلے کی وجہ سے خود تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی منہ چھپائے پھر رہے ہیں ،حتی کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی جو اس وقت کورونا کا شکار ہوکر آئیسولیشن میں ہیں ،شدید تنقید کی زد میں ہیں کہ انہوں نے پارٹی کا مرکزی عہدے دار ہونے کے باوجود ملتان کو علیحدہ سیکرٹریٹ کا صدرمقام بنوانے میں ناکامی کا سامنا کیا اور مسلم لیگ ق کا ایک رکن اسمبلی ،تحریک انصاف ملتان سے تعلق رکھنے والے 17 ارکان اسمبلی ،دو وزراء جن میں وہ خود بھی شامل ہیں ،ملتان جیسے قدیم اور جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے اور مرکزی شہرمیں سیکرٹریٹ قائم نہ کراسکے ،بہت زیادہ تنقید ہونے کے بعد صوبائی پارلیمانی سیکرٹری و رکن صوبائی اسمبلی محمد ندیم قریشی بالآخر سامنے آئے اور انہوں نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاول پور میں قیام کو مسترد کردیا اور ملتان کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کردیا۔

 ادھر رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر اس فیصلہ کی حمایت کرتے رہے، مگر ان کے چھوٹے بھائی اور تحریک انصاف ملتان سٹی کے صدر ملک عدنان ڈوگرخم ٹھونک کر اس کے خلاف سامنے آگئے اور انہوں نے صدرمقام ملتان بنانے کا مطالبہ کیا ہے، بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر شاہ محمودقریشی کو آئیسولیشن میں ہونے کے باوجود ٹویٹ کرنا پڑا ،جس میں انہوں نے اس بات کا دفاع کیا کہ ملتان کو نظرانداز نہیں کیا گیا ، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ تین دن ملتان میں کام کرےگا اور یہ بہت بڑی پیشرفت ہے ،مگر شاید آئیسولیشن میں ہونے کی وجہ سے ان کے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ جو افسران تعینات کئے گئے ہیں۔

وہ ان کے اس دعوے کی یکسر نفی کرچکے ہیں ۔اب یہ چہ مگوئیاں بھی ہورہی ہیں کہ اس قسم کا نظام لاکرحکومت پنجاب کے وسائل کو کس بے دردی سے لٹانا چاہتی ہے ،ایک سیکرٹریٹ کا خرچہ برداشت نہیں ہوتا کہ جنوبی پنجاب میں تین تین کیمپ نما سیکرٹریٹ مسلط کئے جارہے ہیں ،ان کے لئے جگہیں ڈھونڈی جارہی ہیں ،حتی کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے اولڈ کیمپس کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کرنے کی خبریں زیرگردش ہیں ،جن پر نہ صرف بہاول پوربلکہ پورے جنوبی پنجاب کے تعلیمی حلقوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین