آپ آف لائن ہیں
منگل5؍جمادی الثانی 1442ھ 19؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جب ایلون مسک کے پاس گاڑی ٹھیک کرانے کے پیسے بھی نہیں تھے

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک آج دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ہیں لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب ان کے پاس گاڑی ٹھیک کروانے اور مکینک کو دینے کے لیے پیسے تک نہ تھے۔

ایلون مسک کی ایک پُرانی تصویر سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جس میں وہ اپنی گاڑی ٹھیک کرتے دکھائی دے رہے ہیں، ایلون مسک کے ایک مداح نے مذکورہ تصویر شیئر کی جس پر انہوں نے ردعمل بھی دیا۔

مداح نے بتایا کہ ایلون مسک 1993 میں خریدی گئی اپنی پہلی گاڑی کا شیشہ خود بدل رہے ہیں جو انہوں نے 20 ڈالر کا خریدا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایلون مسک کے پاس ریپیرئنگ کے پیسے نہیں تھے سو وہ خود ہی ریپیئر بھی کررہے ہیں۔

مداح کی اس تصویر اور محبت پر ردعمل دیتے ہوئے میں نے جنک یارڈ سے اپنی گاڑی کا گلاس 20 ڈالر کا خریدا تھا، یہ ایسی چیزیں حاصل کرنے کے لیے بہترین مقام ہے۔

دراصل سوشل میڈیا پر ایلون مسک کی زیر گردش تصویر 2019 میں ایلون مسک کی والدہ کی جانب سے شیئر کی گئی تھی۔

والدہ کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں گاڑی کی رپیرنگ یا مرمت کا متحمل نہیں تھا اسی وجہ سے خود ہی ریپئر کررہا ہوں۔‘


خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کاروبار و تجارت کے حوالے سے عالمی شہرت رکھنے والے ادارے ’بلومبرگ‘ نے دنیا بھر کے مالدار ترین لوگوں کی فہرست جاری کی جس میں امریکی صنعتکار اور ’اسپیس ایکس‘ اور ’ٹیسلا‘ جیسی کمپنیوں کے بانی ایلون مسک 188 ارب ڈالر دولت کے ساتھ دنیا کے امیر ترین آدمی قرار دیا۔

دنیا کے 500 مالدار ترین ارب پتی لوگوں کی اس فہرست میں شامل پہلے 10 میں سے 8 کا تعلق امریکا سے ہے۔ شعبہ جاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان ہی 10 میں سے 7 مالدار ترین لوگوں کا تعلق ٹیکنالوجی کے شعبے سے ہے۔

البتہ اس فہرست (انڈیکس) میں پہلی پوزیشن پر ایلون مسک کی موجودگی سب سے زیادہ حیران کن ہے کیونکہ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے ان کی دولت صرف 29 ارب ڈالر تھی جو 2020 میں عالمی کورونا وبا کے باوجود بڑھتی رہی اور 159 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ اس وقت 188 ارب ڈالر پر پہنچ چکی ہے۔

مطلب یہ کہ صرف ایک سال کے دوران ایلون مسک کی دولت میں 650 فیصد کا اضافہ ہوا ہے! اس اضافے کی وجہ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کمپنیوں کے حصص کی قیمت ہے جو مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید