سال 1965 کی جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کے جنگی ترانوں نے بہت سے ریکارڈ قائم کیے۔
جنگ کے لمحات میں ملکہ ترنم نور جہاں کے گیت چلتے تو میدان جنگ میں لڑنے والے پاک افواج کے جوانوں کے حوصلے بلند ہوجاتے۔
ریڈیو پاکستان کے سابق پروڈیوسر اعظم خان کا بتانا ہے کہ انہوں نے 1965ءکی جنگ کے دوران ریڈیو پر ملکہ ترنم نور جہاں کے گیارہ گانے ریکارڈ کیے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے تیسرے روز صوفی تبسم ’اے پُتر ہٹاں تے نہیں وِکدے‘ لکھ کر لائے اور ہم نے ریکارڈنگ کا آغاز کیا۔
ریکارڈنگ کے بعد جب میں نے اور میڈم نور جہاں نے یہ ملی نغمہ سنا تو ہم رو رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 65ء کی جنگ کے لیے ریکارڈ کیے گئے ملی نغموں میں یہ سب سے بہترین ملی گیت ثابت ہوا۔
اعظم خان کا بتانا تھا کہ دشمن کے جہاز آنے پر سائرن بجتا تو سب لوگ بھاگ کر مورچوں میں چلے جاتے مگر میڈم نور جہاں کہتیں کام بند نہیں کرنا مریں گے تو یہیں مریں گے۔
سابق پروڈیوسر کا کہنا تھا کہ میڈم نور جہاں نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے ساری عمر یاد رہے گی۔ وہ بات یہ تھی کہ ’اعظم میں تو کمرشل آرٹسٹ تھی فلموں کے گانے گاتی تھی، ملی نغمے گا کر ہیرو بن گئی‘۔