• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کو سربمہر شوگر ملوں سے چینی اُٹھانے سے روکدیا گیا

اسلام آباد (حنیف خالد) لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے پیر کو پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کی سماعت کی۔ ایسوسی ایشن کے وکلاء نے حکومت کے 3لاکھ 90ہزار ٹن چینی سربمہر گوداموں سے لفٹ کرنے کے پلان سے آگاہ کیا جس پر ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے حکومت کو آرڈر جاری کیا کہ وہ 29ستمبر تک اپنے پلان پر عملدرآمد نہ کرے اور سربمہر شوگر ملوں سے چینی اٹھانے کے اپنے منصوبے کو روک دے۔ عدالت عالیہ خود 29ستمبر کو دونوں فریقوں کے دلائل سن کر اپنا فیصلہ دیگی۔ حکومتی پلان کے مطابق پنجاب کی 38شوگر ملوں سے گورنمنٹ آف پنجاب سخت سکیورٹی میں جو چینی اٹھائے گی اسکی ادائیگی 84روپے کلو کے حساب سے شوگر ملز مالکان کو کریگی جبکہ شوگر ملز مالکان کئی ہفتوں سے تقریباً 100روپے فی کلو ریٹ پر ڈیلروں کو چینی سپلائی کر رہے ہیں‘ اس طرح انتیس ستمبر تک چینی کے موجودہ ریٹ مارکیٹ میں برقرار رہیں گے اور صارفین کو چینی ایک سو چھ سے ایک سو پندرہ روپے کلو پر ہی خریدنا ہو گی۔ عدالت عالیہ میں شوگر ملز مالکان کی طرف سے حکومتی پلان کی نقل پیش کی گئی جس کے مطابق حکومت پنجاب کے کین کمشنر نے سربمہر شدہ شوگر ملوں کے گوداموں سے چینی اُٹھانے کا پلان جاری کر دیا ہے‘ جس کے مطابق 3لاکھ 90ہزار 231میٹرک ٹن چینی پنجاب کی 36شوگر ملوں سے حکومت اُٹھانے والی تھی۔ کین کمشنر زمان وٹو جن کا تعلق پاک پتن شریف سے ہے‘ اور وہ ایک قومی شخصیت سے خود کا ناطہ بیورو کریسی میں فخریہ مبینہ طور پر جوڑتے ہیں‘ اُنہوں نے جو پلان چینی لفٹ کرنے کا جاری کیا ہے اسکے مطابق بہاولنگر کی اشرف شوگر ملز جو کہ آدم گروپ کی ہے اس سے 10ہزار پانچ سو 77اور بہاولپور کی اشرف شوگر ملز سے 13ہزار 11میٹرک ٹن‘ جبکہ جمال دین والی کے نام پر رکھے گئے گروپ کے نام جے ڈی ڈبلیو ون سے 1890میٹرک ٹن ‘ جے ڈی ڈبلیو ٹو سے 955میٹرک ٹن چینی لی جائیگی۔ یہ دونوں ملز جہانگیر ترین کی ہیں۔ خسرو بختیار کی آر وائی کے ملز سے 5ہزار 907میٹرک ٹن اور چوہدری منیر کے اتحاد گروپ سے 4ہزار 850میٹرک ٹن چینی‘ لیہ گروپ کی ایک شوگر ملز سے 3ہزار 474میٹرک ٹن اور دوسری لیہ شوگر ملز سے 5ہزار 329میٹرک ٹن‘ ملتان کے فاطمہ گروپ کی دو شوگر ملوں سے 4ہزار 859اور دوسری شوگر ملز سے 8ہزار 915میٹرک ٹن‘ مظفر گڑھ کی شیخو شوگر ملز سے 6ہزار 416میٹرک ٹن‘ تاندلیانوالہ ٹو گروپ کی شوگر ملز سے ایک ہزار ایک سو سولہ‘ تاندلیانوالہ ون شوگر ملز سے 6ہزار 691میٹرک ٹن‘ تاندلیانوالہ ٹو اٹک شوگر ملز سے 3ہزار 782‘ تاندلیانوالہ ٹو چکوال 5ہزار 306میٹرک ٹن‘ جہلم کیلئے تاندلیانوالہ ٹو سے 4ہزار 337‘ راولپنڈی کیلئے تاندلیانوالہ ٹو سے 12ہزار 121میٹرک ٹن‘ تاندلیانوالہ ون سے ساہیوال کیلئے ایک ہزار 458میٹرک ٹن‘ جوہر آباد ملز سے خوشاب کیلئے 2ہزار 891‘ بابا فرید شوگر ملز سے اوکاڑہ کیلئے 31ٹن‘ پتوکی ملز سے 33ٹن‘ حسین شوگر ملز سے 2759میٹرک ٹن‘ مدینہ شوگر ملز سے 7ہزار 950میٹرک ٹن‘ پاک پتن کیلئے اشرف شوگر ملز سے 6ہزار 459‘ اٹک کیلئے اشرف شوگر ملز سے 2899میٹرک ٹن‘ ملتان کیلئے شیخو شوگر ملز سے 7ہزار 890میٹرک ٹن اور مدینہ ملز سے 8ہزار 942میٹرک ٹن‘ وہاڑی کیلئے مدینہ شوگر ملز سے 10ہزار 278میٹرک ٹن‘ راولپنڈی کیلئے شیخو شوگر ملز سے 7ہزار 54میٹرک ٹن‘ بھکر کیلئے دریا خان شوگر ملز سے 3ہزار 168ٹن اور ایس ڈبلیو ملز سے 2ہزار 687میٹرک ٹن‘ خوشاب کیلئے ایس ڈبلیو ملز سے 1654میٹرک ٹن‘ میانوالی کیلئے المعیز شوگر ملز سے 4118 میٹرک ٹن‘ میانوالی کیلئے ایس ڈبلیو شوگر ملز سے 1366میٹرک ٹن‘ سرگودھا کیلئے العریبیہ شوگر ملز سے 12ٹن‘ ایس ڈبلیو ملز سے 13ہزار 125میٹرک ٹن‘ خانیوال کیلئے ہنزہ ٹو شوگر ملز سے 7ہزار 101میٹرک ٹن‘ مدینہ شوگر ملز سے 3ہزار 264‘ سیالکوٹ کیلئے شاہ تاج شوگر ملز سے 10ہزار 70میٹرک ٹن‘ مدینہ ملز سے 1997ٹن‘ اشرف ملز سے 1744ٹن‘ قصور کیلئے پتوکی شوگر ملز سے 12ہزار 255میٹرک ٹن‘ لاہور کیلئے ٹو سٹار ملز سے 32ہزار 776 میٹرک ٹن‘ ننکانہ صاحب کیلئے سیون سٹار ملز سے 4ہزار 811میٹرک ٹن‘ شیخو پورہ کیلئے نون ملز سے 4ہزار 385 میٹرک ٹن اور سیون سٹار ملز سے 4ہزار 811میٹرک ٹن چینی لفٹ کی جائیگی۔ گوجرانوالہ کیلئے نون ملز سے 13ہزار 851میٹرک ٹن‘ پاپولر ملز سے 3ہزار 92میٹرک ٹن‘ ایس ڈبلیو ملز سے 843میٹرک ٹن‘ فیصل آباد کیلئے رسول نواز ملز سے 5ہزار 920میٹرک ٹن‘ ہنزہ ون ملز سے 19ہزار 704میٹرک ٹن‘ حسین ملز سے 2ہزار 306 میٹرک ٹن چینی اٹھائی جائیگی۔ چینی کی ادائیگی 84روپے کلو کے حساب سے ادائیگی کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار نے جنگ کو بتایا کہ من پسند بڑی شوگر ملوں سے کم مقدار میں چینی اٹھانے کا کوٹہ مقررکیا گیاہے۔ حکومت کے منظور نظر شوگر ملز مالکان کی شوگر ملیں جے ڈی ڈبلیو جو پاکستان میں یومیہ 32ہزار میٹرک ٹن گنا ایک دن میں کرش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘ اسی طرح جے ڈی ڈبلیو ٹو 20ہزار ٹن یومیہ گنا کرش کرنے کی استطاعت کی حامل ہیں۔ اتحاد شوگر ملز یومیہ 24ہزار میٹرک ٹن‘ آر وائی کی شوگر ملز 24ہزار میٹرک ٹن گنا یومیہ کرش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سابق وزیر جہانگیر ترین اور موجودہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور اُنکے خاندان کی شوگر ملوں سے تناسب کے لحاظ سے سب سے کم چینی 84روپے کلو اٹھانے کا منصوبہ ہے جبکہ باقی شوگر ملوں سے تناسب کے لحاظ سے بیحد زیادہ چینی اٹھانے کا پلان ہے۔ پاکستان شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے جون جولائی میں 6لاکھ ٹن چینی امپورٹ کرنے کی تجویز دی تھی مگر آج تک صرف 2لاکھ ٹن چینی حکومت امپورٹ کر سکی ہے۔ باقی 4لاکھ ٹن چینی حکومت امپورٹ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 2لاکھ ٹن چینی جو امپورٹ ہوئی ہے اُس پر سیلز ٹیکس‘ انکم ٹیکس سمیت تمام ٹیکس ختم کر کے بھی درآمدی چینی لاہور پہنچ کر 120روپے کلو میں پڑی ہے اور حکومت 35روپے فی کلو سبسڈی دیکر یوٹیلیٹی سٹورز پر 85روپے کلو چینی فروخت کرے گی۔ ان ذرائع کے مطابق اکتوبر کے آخر تک یہ درآمدی اور شوگر ملوں سے اٹھائی گئی 3لاکھ 90ہزار 231میٹرک ٹن چینی بھی جب ختم ہو گی تو چینی کے ریٹ طلب اور رسد کی بنیاد پر ڈیڑھ دو سو روپے تک جانے کا اندیشہ ہے جس کا سارا فائدہ حکومتی پارٹی کے من پسند ایجنٹوں کو جائیگا۔

اہم خبریں سے مزید