کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال صدر پاکستان کی جانب سے اہم ترین بلوں کو بغیر منظوری کے واپس بھجوانے کی وجہ کیا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ عارف علوی صدر بننے کے باوجود پی ٹی آئی کا حصہ بنے ہوئے ہیں،پی ٹی آئی قومی اسمبلی سے نکلی تھی تو ایم پی ایز اور سینیٹرز کے ساتھ صدر کو بھی مستعفی ہوجانا چاہئے تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان ویڈیو لنک سے دھمکیاں دینے کے بجائے باہر نکلیں عمران خان کے باہر نہ نکلنے کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں ایک وجہ گرفتاری کا خدشہ، دوسری وجہ جان کا خوف اور تیسری وجہ پس پردہ رابطے ہوسکتی ہے.
ارشاد بھٹی نے کہا کہ نیب قانون پر جس طرح ڈاکا ڈالا گیا کیا صدر مملکت کو اسے منظور کرلینا چاہئے، نیب قانون میں دو تین شقیں متنازع تھیں لیکن اس حکومت نے پورا قانون ہی بدل دیا.
صدر عارف علوی اپنے ضمیر کی آواز پر ایسے بلوں کو واپس بھجوارہے ہیں،ہمارا بڑا عجیب ملک ہے جس شخص پر فرد جرم عائد ہونی تھی وہ وزیراعظم بن کر بیٹھا ہے.
منحرف رکن جس نے 2023ء میں ن لیگ سے ووٹ لینا ہے اسے قائد حزب اختلاف بنادیا گیا ہے،پی ٹی آئی قومی اسمبلی سے نکلی تھی تو ایم پی ایز اور سینیٹرز کے ساتھ صدر کو بھی مستعفی ہوجانا چاہئے تھا.
ن لیگ کے دور میں جب نواز شریف نااہل ہوئے تو 163ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں کھڑے ہوگئے اور نااہلیت کو اہلیت میں بدل دیا، موجودہ پارلیمنٹ نیب قانون میں ترامیم کے ذریعہ این آر او دینے جارہی ہے۔ریما عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے آئینی طریقہ کار سے ہٹایا گیا.
قومی اسمبلی میں کوئی اپوزیشن نہیں ہے تو یہ حکومت کی غلطی نہیں ہے، صدر عارف علوی کا ضمیر ہے تو وہ آئینی و قانونی کردار پورا کریں، صدر مملکت کو اپنی ذاتی رائے کا اظہار الگ مواقع پر کرنا چاہئے، تحریک عدم اعتماد کے بعد سے صدر علوی آئین کے خلاف کام کررہے ہیں .
صدر مملکت اہم ترین بلوں کو منظور نہ کریں تب بھی ان پر عمل کیا جائے گا، صدر عارف علوی کا ضمیر اس وقت جاگنا چاہئے تھا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا گیا تھا.
پارلیمنٹ آئین کیخلاف قانون سازی کرتی ہے تو اس کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دی جاسکتی ہے، نواز شریف کی نااہلی ریورس کرنے کیلئے کوئی قانون نہیں لایا گیا ہے۔
سلیم صافی نے کہا کہ صدر عارف علوی کے اہم ترین قوانین کو واپس بھجوانے کی وجہ عمران خان کی غلامی ہے، عارف علوی نظریاتی سیاسی کارکن تھا لیکن صدر بنتے ہی اس کے ضمیر کا آرٹی ایس سسٹم مکمل طور پر فیل ہوگیا ہے.
عارف علوی کے ضمیر کا آرٹی ایس سسٹم فیل نہیں ہوتا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف من گھڑت ریفرنس واپس کردیتے، نیب کی سیاسی انجینئرنگ کے خلاف سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے فیصلے موجود ہیں،ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے نیب کو جتنا بھگتنا تھا بھگت چکی ہیں۔
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عارف علوی صدر بننے کے باوجود پی ٹی آئی کا حصہ بنے ہوئے ہیں، صدر عارف علوی نے حکومت کو امپورٹڈ سمجھتے ہوئے استعفیٰ کیوں نہیں دیا، پی ٹی آئی کے صرف ایم این ایز موجودہ حکومت کو امپورٹڈ سمجھتے ہیں، تحریک انصاف کے سینیٹرز اور ایم پی ایز اس حکومت کوا مپورٹڈ نہیں سمجھتے ہیں.
پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں موجو دہوتی تو حکومت کیلئے نیب قانون میں ترامیم پاس کرنا آسان نہیں ہوتا، تحریک انصاف کو احتساب اور الیکشن ترمیمی بلوں پر اعتراض ہے تو سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکتی ہے۔
دوسرے سوال تحریک انصاف تا حال حکومت مخالف واضح لائحہ عمل دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ پس پردہ کچھ بات چیت چل رہی ہے اس کی وجہ سے عمران خان حکومت مخالف لائحہ عمل نہیں دے رہے ہیں، پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ الیکشن کا اعلان کردیا جائے تو وہ قومی اسمبلی میں واپس آکر انتخابی اصلاحات کا حصہ بن سکتی ہے۔
ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان ویڈیو لنک سے دھمکیاں دینے کے بجائے باہر نکلیں، کیا عمران خان کی جان ہی اہم ہے سڑکوں پر رُلنے والوں کی جان اہم نہیں ہے، عمران خان کے باہر نہ نکلنے کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک وجہ گرفتاری کا خدشہ، دوسری وجہ جان کا خوف اور تیسری وجہ پس پردہ رابطے ہوسکتی ہے۔
ریما عمر نے کہا کہ خرم دستگیر نے ایمانداری سے بتادیا ہے کہ موجودہ حکومت بننے کے پیچھے معاشی صورتحال نہیں بلکہ کچھ سیاسی خوف اور تقرری سے متعلق کچھ خدشات تھے جسے پہلے جان کر یہ حکمت عملی بنائی گئی۔