• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پختونخوا میں متاثرین کے امدادی پیکج میں اضافہ

خیبرپختونخوا میں سیلابوں نے تاریخ کی بدترین تباہی مچادی ہے صوبے بھر میں ہزاروں مکانات زیر آب آگئے سیلابی ریلے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچنے کیلئے نقل مکانی کرنا پڑی سوات، کالام، بحرین، اتروڑ، کمراٹ، دیر ، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور کے بعض مقامات پر لاکھوں افراد اور ملکی اور غیر ملکی سیاح محصور ہوگئے جبکہ لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر پہنچنے کیلئے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اس وقت بھی ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ریلیف کیمپوں میں بھی متاثرین سیلاب کو شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے خیموں اورخوراکی اشیا ءکی کمی کی شکایات مل رہی ہیں جبکہ پشاور موٹروے پر چارسدہ اور نوشہرہ کے علاقوں کے لوگ بھی سیلاب سے بچنے کیلئے عارضی ریلیف کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں افغانستان سے سیلابی ریلا آنے کی اطلاعات پر پشاور میں ورسک ڈیم کے قریبی دیہات خالی کروالئے گئے اس وقت ملک معاشی لحاظ سے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ ایسے حالات میں رہی سہی کسر تاریخ کی بدترین سیلابوں نے پوری کردی ہے حالیہ سیلابوں کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق کھڑی فصلوں باغات مکانات ہوٹلوں اور انفراسٹرکچر کی تباہی سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ 

تاہم حکومت کے مطابق صحیح نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے تفصیلی سروے کیا جارہا ہے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سوات ٗکالام ٗمٹہٗ ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا گیا جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھی سیلاب زدہ علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کا دورہ کیا گیا اسی طرح جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے فرزند وفاقی وزیر اسعد محمود، وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام، آفتاب احمد شیرپاؤ، ایمل ولی خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔

جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ہونیوالے جلسے منسوخ کردیئے گئے مولانا فضل الرحمن نےمتاثرہ علاقوں کے دور ہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں سیاستدانوں کو سیاست کرنے کی بجائے اپنی تمام تر توجہ متاثرین کی مدد کیلئے مرکوز کردینی چاہیےیہ وقت سیاست کا نہیں متاثرین سے اظہار یکجہتی اور ان کے زخموں پر مرہم لگانے کا وقت ہے خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں پر ملکی اور غیرملکی سیاح اور مقامی آبادی پھنسی ہوئی تھی خیبرپختونخوا حکومت اور آرمی کی امدادی ٹیموں کی طرف سے انہیں ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے بروقت ریسکیو کرکے انہیں ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ 

اسی طرح پاک آرمی کی امدادی ٹیموں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سوات سے غیر ملکی سیاح ہسپانوی جوڑے کو بھی ریسکیو کیا اور محفوظ مقام پر منتقل کیا جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فائونڈیشن کے رضاکاروں کی امدادی کارروائیوں اور بالخصوص سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے میں ان کی کارکردگی قابل ستائش ہے صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 15جون سے 27 اگست تک سیلاب سے 226اموات اور 282 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 1266مال مویشی مرگئے ہیں، 33236 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جس میں 16612 مکانات مکمل طور پر تباہ گئے ہیں اور 16624مکانات کو جزوری نقصان پہنچا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے زیادہ یعنی 70افراد جان بحق ہو گئے ہیں۔ 

کالام سوات میں 50 ہوٹلز،24 پل،سیکڑوں مکانات دریا برد ہوئے منڈا ہیڈ ورکس پر گنجائش سے زیادہ سیلابی ریلا گزرنے سے ہیڈورکس کا کچھ حصہ تباہ ہوگیا۔ منڈا ہیڈ ورکس کی گنجائش 225000 کیوسک ہیں. جبکہ 260000 کیوسک سے زیادہ کا سیلابی ریلا گزرنے سے منڈا ہیڈورکس کا کچھ حصہ گرگیا منڈا ڈیم ہیڈ ورکس ٹوٹنے سے حالات کافی مخدوش ہو گئے تھے اور ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی تھی لیکن بعد میں حالات پر قابو پا لیا گیا سیلابوں سے متاثرہ اضلاع کے کئی دیہاتوں میں پانی اب بھی کھڑا ہے تاہم مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ 

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے دونوں ہیلی کاپٹر ریلیف آپریشن میں مصروف رہے خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں اور بارش سے زمینی رابطوں کو بہت نقصان پہنچا خیبر پختونخوا کی تاریخ کے بدترین سیلابوں کی وجہ سے دریائے سوات کا سیلابی ریلا بلین ٹری سونامی کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ بہا کرلے گیا۔ طوفانی بارشیں اور بپھرے سیلابی ریلے جہاں جہاں سے گزرے وہاںتباہی کی داستان چھوڑ گئے سیلابوں سے متاثرہ اضلاع میں شہری اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنے لگے۔ 

خیبر پختونخوا حکومت اور پاک فوج کی امدادی ٹیموں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے منقطع علاقوں میں اشیائے خوردونوش پہنچائیں صوبائی وزیر اور سیلاب کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شوکت علی یوسفزئی کے مطابق خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرین سیلاب کی امداد کے لیے صوبائی کابینہ نے محکمہ ریلیف کو ڈھائی ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دے دی سیلاب سے متاثرہ افراد کے امدادی پیکج میں اضافہ کردیا گیا۔ 

سیلابوں میں جاں بحق ہونیوالوں کے لواحقین کو 8 ٗ8 لاکھ روپے کی رقم دی جائیگی جبکہ جن لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے انہیں تین ٗتین لاکھ روپے دیئے جائیں گے صوبے بھر میں متاثرین کی مدد کیلئےسیاسی جماعتوں اور فلاحی تنظیموں کی طرف سے امداد ی کیمپس لگا دیئے گئے ہیں جبکہ عوام کی طرف سے دل کھول کر متاثرین کی امداد کی جارہی ہے متاثرین کی مدد کے سلسلے میں عوام کا جذبہ قابل تحسین ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید