• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خبر کے مندرجات درست نہیں، گیس کمپنی،خبر پر قائم ہوں، رپورٹر

کراچی (پ ر) سوئی سدرن کمپنی نے جنگ کے یکم اکتوبر کے شمارے میں شائع ’’بند پاکستان اسٹیل مل کے اگست کا سوئی گیس بل دوبارہ 7کروڑ سے زائد، بقایاجات کے عوض اراضی دینے کا پروپوزل‘‘ کے عنوان سے خبر کے حوالے سے تردید جاری کی ہے کہ اس خبر کے مندرجات درست نہیں ہیں۔مسلسل ڈیفالٹ کے پیش نظر، سوئی سدرن نے 2015 میں پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کو گیس کی فراہمی منقطع کے نوٹس جاری کیے تھے۔ تاہم ادارے نے پاکستان اسٹیل کی گیس فراہمی مکمل طور پر منقطع نہیں کی تھی۔ کوک اون کی بیٹریوں کو قابلِ استعمال رکھنے کے لیے سوئی سدرن گیس فراہم کر رہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گیس کے ماہانہ بل جو کہ 80، 85ملین روپے کے درمیان ہوتے ہیں وہ پاکستان اسٹیل کی طرف سے باقاعدگی سے ادا نہیں کیے جاتے۔ البتہ وفاقی حکومت کی جانب سے گرانٹ کے اجراء کی صورت میں جزوی ادائیگیاں موصول ہوتی رہتی ہیں۔پاکستان اسٹیل کے ذمہ کل واجبات 30ستمبر 2022ء تک لیٹ ادائیگی سرچارج سمیت 74 بلین روپے ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹر اپنی خبر کے مندرجات کی درستگی پر قائم ہے۔ رپورٹر کے پاس جولائی اور اگست کے بل کی کاپی بھی موجود ہیں۔ ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ کہ پاکستان اسٹیل مل کے ماہانہ بل 8 کروڑ سے ساڑھے آٹھ کروڑ ہوتے ہیں اور ان کی ادائیگی باقاعدگی سے نہیں ہوتی جب کبھی ادارے کو گرانٹ ملتی ہے تو تھوڑی بہت ادائیگی کردی جاتی ہے۔ خبر میں تحریر کیا گیا تھا کہ مجموعی ادائیگی 45 ارب ہے جبکہ ترجمان کے مطابق یہ ادائیگی 45 ارب نہیں بلکہ 75ارب ہے۔ خبر میں یہ بھی تحریر تھا کے اسٹیل ٹاؤن کی گیس کے بل کی ادائیگی باقاعدگی سے ہوتی ہے اور کوئی بقایاجات نہیں ہیں۔ ترجمان نے بقایاجات کے عوض پاکستان اسٹیل مل کی ملکیت اراضی سوئی سدرن کمپنی کو دینے کے پروپوزل کی تردید نہیں کی۔
ملک بھر سے سے مزید