• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نادرا ریکارڈ میں بانی ایم کیو ایم کے رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) نادرا ریکارڈ میں بانی ایم کیو ایم کے رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،بانی متحدہ کو شناختی کارڈ جاری کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی کیعدالت کی ہدایات پر الطاف حسین کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا گیا۔وزار ت داخلہ ، خارجہ کے حکام پیش نہ ہونے پر عدالت برہم ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ سول رائٹس اور کریمنل کیس دو الگ چیزیں ہیں۔ فاضل جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیسے عجیب لوگ ہیں، ڈائریکشن کس کو دوں، کیا الطاف حسین کی درخواست کسی نے دیکھی بھی ہے؟ ایک درخواست 2014 سے زیرالتوا ہے ، اسے دیکھیں تو سہی۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو وزارت خارجہ سے مشاورت کے بعد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر نادرا کے وکیل نے کہاکہ نادرا کے ریکارڈ میں الطاف حسین رجسٹرڈ ہی نہیں ، ان کا شناختی کارڈ نادرا کے قیام سے پہلے کا ہو سکتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ وزارت داخلہ سے کون آیا ہے؟ آ کر بنیادی بات تو بتا دیں،ایک شخص پاور آف اٹارنی رجسٹر کرانا چاہتا ہے اور سفارت خانہ اس کو تسلیم نہیں کر رہا ، الطاف حسین کی درخواست زیرالتوا ہے ، اس پر فیصلہ کر دیں؟ فاضل جسٹس نے برہمی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ سے کوئی شخص آیا ہی نہیں ڈائریکشن کس کو دوں؟ وزارت داخلہ والے کیسے عجیب لوگ ہیں ، عدالت نے استفسار پر بتایا گیا کہ وزارت خارجہ سے بھی کوئی نہیں آیا۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کتنی عجیب بات ہے ، وزارت خارجہ اور داخلہ دونوں سے کوئی نہیں آیا ، ایک گھنٹے میں وزارت داخلہ اور خارجہ کے ڈائریکٹر عدالت میں پیش ہو جائیں ، نادرا کو اطلاع ہو گئی ، کیا دونوں وزارتوں کو اطلاع نہیں ملی؟ ایک فون کال کر کے کہہ دیا کہ بس تاریخ لے لیں ، اگر الطاف حسین کی شناختی کارڈ کی درخواست مسترد کر دی ہے تو وہ بھی بتا دیں۔ عدالت نے وزارت داخلہ و خارجہ کے متعلقہ ڈائریکٹرز کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو وزارت داخلہ اور خارجہ کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ وزارت داخلہ کے نمائندہ نے کہاکہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کی ڈائریکشن تھی کہ الطاف حسین کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کریں۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو وزارت خارجہ سے مشاورت کے بعد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
اہم خبریں سے مزید