• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوکت صدیقی کی تحریروں کی کلیدی اساس سماجی حقیقت نگاری، مقررین

کراچی( اسٹاف رپورٹر) شوکت صدیقی اردو کے شہرہ آفاق ناول و افسانہ نگار تھے جو اپنے ناول خدا کی بستی کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ شوکت صدیقی سماجی اور سیاسی شعور بیدارکرنے کے کوشاں رہتے تھے،شوکت صدیقی نے جرائم کی دنیا کی عکاسی کرتے ہوئے غریب، مجبور، مظلوم انسانوں کی کہانیاں پیش کی ہیں اور ان کا نظریہ تھا کہ ملک میں اصل خرابی جاگیرداری ہے اور وہ جاگیر داری کے خاتمہ کو ملک کی ترقی کے لئے ناگزیر سمجھتے تھے۔ان کی تحریروں کی کلیدی اساس سماجی حقیقت نگاری ہے اور ایک صحافی ہونے کے ناطے وہ ملک کے معروضی حقائق سے بخوبی آگاہ تھے۔شوکت صدیقی کی زبان و بیان نہایت سادہ اور روز مرہ کی ہے،ثقیل اردو نہیں لکھتے بلکہ عوامی زبان لکھتے تھے۔ شوکت صدیقی کا دوسرابڑا ناول جانگلوس ہے اورجانگلوس کو پنجاب کی الف لیلیٰ بھی کہا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے شعبہ اُردو جامعہ کراچی کے زیر اہتمام شوکت صدیقی کے صدسالہ یوم ولادت کی مناسبت سے کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقد ہ صدسالہ شوکت صدیقی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین میں پروفیسر محمد علی منظر،اقبال خورشید،کاشف رضا، نگار صدیقی،کاظم پاشا،ڈاکٹر صدف تبسم،ڈاکٹر تہمینہ عباس،ڈاکٹر تنظیم الفردوس،ڈاکٹر جعفراحمد اور محمود شام شامل ہیں۔ صدرشعبہ اُردو پروفیسر ڈاکٹرعظمیٰ فرمان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے عہد حاضر کے سماجی اور طبقاتی مسائل کے حل کے لئے شوکت صدیقی کی تحریروں کی معنویت اجاگرکی۔
ملک بھر سے سے مزید