ڈاکٹر امان اللہ اچکزئی
جس طرح تقویم ِ عیسوی میں’’جنوری‘‘کامہینہ اس سال کا آغاز و ابتداء ہے، اسی طرح اسلامی تاریخ میں ’’محرم الحرام‘‘کامہینہ تقویمِ اسلامی کا آغاز اور ابتداء ہے،’’محرم الحرام‘‘جیساکہ اپنے الفاظ سے صاف طور پر واضح اور ظاہر کرتا ہے کہ اس کے معنی حرمت وعظمت کے ہیں، اگرچہ ماہ وسال، دن ورات تخلیق میں سب برابر ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت وعظمت عطا کی ہے، جس طرح دنوں میں جمعہ، راتوں میں شب ِقدر اور خطۂ زمین میں کعبۃ اللہ کواہمیت، فضیلت ا وربرکت حاصل ہے، اسی طرح پورے سال کے بارہ مہینوں میں رمضان المبارک اور محرم الحرام کواہمیت، عظمت، فضیلت اور بزرگی حاصل ہے، قرآن کریم میں جن چارمہینوں کو اَشہُر حرم کہا گیا ہے جن میں جنگ وجدال اور قتل وقتال سے منع کیا گیا ہے، ان مقدس و محترم اور مبارک مہینوں میں ایک ’’ماہ محرم الحرام ‘‘بھی ہے، اس اعتبار سے بھی یہ مہینہ تقویمِ اسلامی میں نہایت معظم ومکرم، خیر و برکتوں، رحمتوں کا حامل ہے کہ اس میں وہ بے مثال اور مہتم بالشان واقعات وقوع پزیر ہوئے ، جن کی اسلامی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلامی سال کا آغاز ’’محرّم الحرام‘‘ سے ہوتا ہے، جو اپنے دامن میں غم و حُزن اور رنج و الم کی داستانیں سموئے ہُوئے ہے، چناںچہ یکم محرّم الحرام مرادِ رسولؐ،امیر المومنین سیّدنا عمر فاروقؓ کا یومِ شہادت ہے، جب کہ عاشورۂ محرّم نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ علیؓ و بتولؓ سیّدنا حسین ابنِ علیؓ اور شہدائے کربلاؓ کی شہادتِ عظمیٰ اور ظلم و ستم کی وہ داستان لیے ہوئے ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔
مستندومعتبر کتب ِسیراوربعض شروح ِحدیث میں ہمیں ان تاریخی حقائق اورواقعات کا ذکرجابجاملتاہے۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ (۱) عاشورہ کے دن ابوالبشر سیدنا حضرت آدم ؑ کی توبہ بارگاہ ِرب العالمین میں قبول ہوئی ، (۲)اسی دن کشتی نو ح ؑ بحفاظت جودی پہاڑ پر آکر ٹھہری،(۳)سیدنا حضرت یونس ؑ کواسی روز مچھلی کے پیٹ سے خلاصی ملی اور اسی دن آپ ؑ کی امت کا قصور معاف کیا گیا،(۴)اسی دن سیدنا یوسف ؑ کنوئیں سے نکالے گئے، (۵)سیدناحضرت ایوب ؑ کو اسی روز مرض سے صحت یابی عطا ہوئی،(۶)اسی دن سید ناحضرت ادریس ؑ آسمان پر اُٹھا ئے گئے،(۷)سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کی ولادت اسی دن ہوئی ،(۸)سیدناحضرت سلیمان ؑ کو اسی روز ملک وحکومت عطا ہوئی۔ (۹) اسی دن سیدناحضرت موسیٰ ؑ کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون کو اسی دن غرق کیا گیا۔(خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی ص ۴۱۷)
امام عبدالرحمن بن عبدالسلام ؒ اپنی کتاب’’نزہۃ المجالس‘‘میں عاشورہ کے دن واقع ہونے والے اہم ترین واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دن حضرت ابراہیم ؑ کو خلیل بنایا گیا (۲)اسی دن حضر ت داؤد ؑ پر تمغہ مغفرت سجایا گیا (۳) اسی دن حضر ت سلیمان ؑ کو حکمرانی عطا ہوئی ( ۴)اسی دن آسمان ،زمین ،لوح وقلم کی تخلیق کی گئی۔ (۵) اسی دن حضرت آدم ؑ اور حضرت حواء ؑ کو پیدا کیا گیا (۶)اور اسی دن قیامت قائم ہو گی۔
اسلام کی آمد سے قبل بھی اہل عرب ماہ محرم کو مکرم ومعظم جانتے تھے اور اسی وجہ سے قریش یوم عاشورہ کو کعبۃ اللہ پر نیا غلاف چڑھا تے ، اسی دن وہ روزہ بھی رکھا کرتے ، رسول اللہﷺ بھی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری)
مذکورہ واقعات یوم عاشورہ کی فضیلت اور اس کی شان کو ثابت کرتے نظر آتے ہیں اور ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عاشورہ کے دن کو دیگر ایام پر کس قدر فضیلت اور غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے بھی مختلف احادیث میں اس دن کی فضیلت بیان فرمائی ہے، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو کسی فضیلت والے دن کے روزے کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی عاشورہ کے دن اورسوائے اس ماہ یعنی ماہ رمضان المبارک کے۔ (صحیح مسلم)حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :’’روزے کے سلسلے میں کسی بھی دن کو کسی دن پر فضیلت حاصل نہیں، مگر ماہِ رمضان المبارک کو اور عاشورہ کو (کہ ان کو دوسرے دنوں پر فضیلت حاصل ہے) (الترغیب والترہیب:۲۱۱۵)
معروف عالم دین وعظیم محدث مولانا منظور نعمانی ؒ لکھتے ہیں :’’قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کی کچھ روایات اس دن کے بارے میں اُن تک پہنچی ہوں گی اور رسول اللہﷺ کا معمول تھا کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے ، اُن میں آپﷺ ان سے اتفاق اور اشتراک فرماتے، اسی بناء پر حج میں بھی شرکت فرماتے ،پس اپنے اس اصول کی بناء پر آپﷺ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے‘‘۔
رسول للہﷺ ہجرت سے پہلے بھی مکہ مکرمہ میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور جب مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہود کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا اور اس کے متعلق معلوم ہوا تو پھر آپﷺ نے حضرات صحابہ ؓ کو اس دن روزہ رکھنے کا تاکیدی حکم فرمایا ،چنانچہ عاشورہ کے روزہ کی فضیلت وبرکت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس کی برکت سے پہلے ایک سال کے گناہوں کی تطہیر ہو جائے گی۔(صحیح مسلم) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (نفلی روزوں میں) عاشورہ کے روزہ سے زیادہ کسی اور روزہ کا اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری )
مسلمانان ِعالم محرم الحرام کی عظمت اور یوم عاشورہ کی فضیلت کے پیش نظر اس ماہ میں اور خصوصیت کے ساتھ یوم عاشورہ کو نفلی روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے، کیونکہ فضیلت والے ماہ ودن اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور خصوصی عنایتوں میں سے ایک ہوتے ہیں، بندوں کو چاہئے کہ وہ ان کی قدردانی کریں اور ان میں جن عبادات کا حکم دیا گیا ہے ،انہیں انجام دیتے ہوئے اپنے لئے نیکیوں کا ذخیرہ تیار کریں، بہت سے لوگ فضیلت و برکت والے ماہ وایام کی ناقدری کرتے ہوئے نیکیوں سے محروم ہوجاتے ہیں تو بہت سے لوگ ان دنوں کی عبادتوں کو نفلی جان کر اسے انجام نہیں دیتے، حالانکہ کوئی بھی عبادت چاہے وہ فرض ہو یاواجب یا پھر نفل ، اس کا تعلق حکم سے ہوتا ہے، مگر ثواب اور نیکی تو جذبہ عمل کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، بسا اواقات نفلی عبادات رضائے الٰہی اور تقرب الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور بندے کو محض اس نفلی عبادت کی بنیاد پر نجات کا پروانہ دے دیا جاتا ہے، اس لئے نفلی عبادتوں کو معمولی سمجھ کر بلا کسی وجہ کے ترک کر دینا مناسب نہیں ہے۔