• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کیلئے ماہ صیام کا ہر روز عید، ہر رات شب برأت

کراچی( ثاقب صغیر /اسٹاف رپورٹر ) رمضان المبارک میں کراچی کے شہریوں کو تو امن نصیب نہ ہو سکا لیکن کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے لیے ماہ صیام کا ہر روز عید اور ہر رات شب برات ثابت ہوئی۔شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد ان سے بھتہ وصولی کے واقعات نے ڈیپارٹمنٹ کانام اور ساکھ بری طرح متاثر کی ہے، ڈکیتیوں میں ملوث دو ملزمان گرفتار کرکے مبینہ طور پر 17لاکھ روپے رشوت لیکر چھوڑ دیا ۔ پہلے واقعہ میں پولیس اہلکاروں کی جانب سےپرانے کپڑوں کے تاجر کومختصر دورانیہ کے لئے اغواء کرکے اس کے اہل خانہ سے2لاکھ روپے تاوان وصول کیے گئے۔ سکھن تھانے کی حدود لیبر اسکوائر پرمبینہ طورپر پولیس اہلکاروں نے خود کو حساس ادارے کا اہلکار ظاہر کرکےپرانے کپڑے کے تاجر کو اغواء کیا،واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے ابھی سامنے آئی۔پولیس اہلکار مغوی تاجر کو رات بھر پولیس موبائل میں گھوماتے رہے اور گھر والوں سے تاوان وصول کیا گیا ،ذرائع کے مطابق پولیس ہلکاروں نے مغوی تاجر کے اہل خانہ سےموبائل فون کے ذریعہ رقم وصول کی ،گھر والوں سے دو لاکھ روپے لے کر مغوی تاجر کوجناح اسپتال کے گیٹ پر چھوڑ دیا۔دوسرے واقعہ میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے شہری عاطف اسلم کو گلشن اقبال میں چائے کے ہوٹل سے شارٹ ٹرم اغواء کیا اور محمودآباد لے جاکر اے ٹی ایم سے 2لاکھ کیش نکلوائے اور تین لاکھ کا وعدہ لے کر چھوڑ دیا۔ متاثرہ شہری عاطف اسلم کے مطابق وہ اسٹوڈنٹ ویزے کا کام کرتا ہے۔ یونیورسٹی روڈ سے پولیس موبائل میں سادہ لباس اہلکار اسے ہوٹل سے اس کی گاڑی سمیت اپنے ہمراہ لے کر گئے اور نامعلوم مقام پر چار گھنٹے تک تشدد کیا جاتا رہا، رہائی کے لئے 15لاکھ روپے سے ڈیل شروع ہوکر5لاکھ روپے میں ختم ہوئی، کار ٹریکر سے معلوم ہوا کہ مجھے سی ٹی ڈی سول لائن لے کر جایا گیا تھا۔تیسرے واقعہ میں گلشن معمار سے تاجر عباس کے اغواہ کیا گیا۔تاجر کو اغوا کرنے والی ٹیم سی ٹی ڈی گارڈن رفاقت شاہ کی تھی ۔تاجر کے اغوا میں اے ایس آئی لیاقت ، اے ایس آئی جہانزیب اور ہیڈ کانسٹیبل راؤ شامل تھے۔ مذکورہ ٹیم نے تاجر عباس کو گھر کے باہر سے اغواہ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔تاجر عباس نے آئی جی سندھ سے تحریری شکایت کی جس پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن فدا شاہ کی بھی نکوائری کے آرڈر دیئے۔چوتھے واقعہ میں سی ٹی ڈی افسران نے ڈکیتی کرنےو الے ملزمان سے مبینہ طورپر رشوت کی آڑ میں17 لاکھ روپے وصول کئے۔سی ٹی ڈی نے بینک سے رقم لے کر نکلنے والے شہریوں سے لوٹ مار کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے مبینہ طور پر رشوت لے کر غیر قانونی اسلحے کے کیس میں گرفتار کرلیا جبکہ ملزمان سے رقم کی ریکوری اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ مارچ کے مہینے میں سی ٹی ڈی نے پوش علاقوں میں ڈکیتیوں میں ملوث دو ملزمان شیر مالک اور عرفان کو گرفتار کیا جن کے خلاف درخشاں اور بوٹ بیسن تھانے میں 36لاکھ اور 19لاکھ روپے کی ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں ۔سی ٹی ڈی نے دونوں ملزمان سے مبینہ طور پر 17لاکھ روپے رشوت وصول کرکے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جبکہ ملزمان سے کسی قسم کی ریکوری نہیں کی گئی اور نہ ہی ساؤتھ زون پولیس سے رابطہ کیا گیا تاکہ ملزمان کے کرمنل ریکارڈ کی مزید جانچ پڑتال کی جاتی۔پانچویں واقعہ میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب شہری کو اغواہ کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد 4لاکھ روپے بھتہ لیا گیا۔واقعہ میں ملوث چاروں اہلکاروں کو گرفتارکرلیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے شہری جاسم اور اسکے دوستوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا۔شہری کی مدعیت میں ٹیپو سلطان تھانے میں مقدمہ الزام نمبر 119/24 درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق شہری جاسم کو دوستوں کے ہمراہ پی ای سی ایچ ایس سے حراست میں لیکر اہلکار سی ٹی ڈی گارڈن سیل لیکر گئے تھے۔ شہری نے ٹیپو سلطان پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا کہ اہلکاروں نے گارڈن سیل میں مجھ پر بدترین تشدد کیا ، خالی کاغذ پر سائن اور انگھوٹے کا نقش بھی لیا ۔مدعی جاسم کے مطابق نور نامی لڑکی نے مجھے 63 ہزار رقم دینی تھی ، رقم کا تقاضہ کیا تو اس نے مجھے بلاک کردیا۔ نور نامی لڑکی نے شعیب نامی لڑکے کے ذریعے مجھ سے رابط کیا اور مجھے ملنے کے لیئے پی ای سی ایچ ایس بلایا۔میں اپنے چار دوستوں کیساتھ وہاں پہنچا جہاں شعیب بھی اپنے تین دوستوں کے ہمراہ موجود تھا۔اس دوران سی ٹی ڈی گارڈن کے اہلکار آئے اور مجھے اور میرے دوستوں کو موبائل میں ڈال کر لے گئے،پولیس اہلکاروں نے میرے موبائل فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا۔ مدعی نے بتایا کہ گارڈن سیل میں نور عفان نامی لڑکے کے ساتھ آئی جو خود کو سی ٹی ڈی اہلکار بتاتا تھا۔عفان نے نور کے سامنے مجھے مارا پیٹا،گالیاں دیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور پھر میرے بھائی کو بلا کر 4 لاکھ روپے لیکر مجھے چھوڑا۔ چار لاکھ لیکر مجھے دھمکیاں دیتے ہوئےچھوڑا گیا۔واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں ہوٹل سے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو مذکورہ نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بھیڑ بکریوں کی طرح پولیس موبائل میں ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق واقعہ میں ملوث چاروں اہلکاروں کو گرفتار کر کے انہیں مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو)کے حوالے کر دیا گیا ہے۔اہلکاروں میں اے ایس آئی رفاقت،اے ایس آئی لیاقت،جہانذیب اور حارش شامل ہیں۔یہ صرف ان وارداتوں کا ذکر ہے جو ریکارڈ پر آئی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید