کراچی(سید محمد عسکری) وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی سال 25-2024کا ری کرنٹ بجٹ (متواتر بجٹ )میں بڑا کٹ لگا کر اسے 65 ارب روپے سے کم کرکے 25 ارب روپے کردیا ہے اور اسے صرف وفاقی جامعات تک محدود کردیا گیا ہے۔ اب وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن صوبوں کی جامعات کو فنڈنگ نہیں کرسکے گی اور صوبے اپنی جامعات کی خود فنڈنگ کریں گے۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ نے ہائر ایجوکیشن کو خط بھی لکھ دیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک کی 160 سے زائد سرکاری جامعات کے لیے 126 ارب کی درخواست کر رکھی تھی اسی طرح پلاننگ کمیشن نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ترقیاتی بجٹ 59ارب روپے سے کم کر کے 21؍ ارب روپے کردیا ہے۔ بجٹ کم کرنے اور صوبوں کو فنڈنگ نہ کرنے پر پیر کو وائس چانسلرز کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں بجٹ کم کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے ملک کی اعلیٰ تعلیم کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا اور طے کیا گیا کہ اس حوالے سے سب جامعات اپنے اپنے صوبوں میں احتجاج کریں اور وزراء اعلیٰ کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے وزارت خزانہ کی جانب ری کرنٹ گرانٹ جب کہ پلاننگ کمیشن کی جانب سے ترقیاتی گرانٹ کم کرنے سے متعلق خطوط موصول ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سے جامعات پر بہت منفی اثرات پڑیں گے ۔انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کو خطوط بھی لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ 65 ارب تھا جو جون2024ء تک نہیں بڑھایا گیا لیکن اب اسے کم کرکے 25 ارب روپے کردیا گیا ہے۔