اسلام آباد( تنویر ہاشمی ) سینٹ قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف ہوا ہےکہ سولر پینل کی درآمدات میں سولر پینل درآمد کرنیوالی دو کمپنیوں نے ملی بھگت سے 70ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی یہ منی لانڈرنگ اوور انوائسنگ کی مد میں کی گئی ہے، سولر پینل کی2018 سے 2023 کے دوران دو کمپنیوں نے ایل سی کھولے بغیر اربوں روپے کی درآمدات کیں تاہم بنکوں نے ان کی کیش ٹرانزکشن پر سٹیٹ بنک کے ایف ایم یو کو مشکوک ٹرانزکشن کا کیس نہیں بھیجا، ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر سینٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا ، ک کمیٹی نے کمپنیوں کی تفصیلات طلب کرلیں کمیٹی نے بنکوں ، سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے کوتاہی برتنے پر شدید تحفظات کا اظہا رکیا ، کمیٹی ارکان سینٹر شاہزیب درانی اور سینٹر منظور احمد نے سولر کمپنیو ں کی جانب سے اربوں روپے کی مشکوک ٹرانزکشن رپورٹ نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہااتنی بڑی ٹرانزکشن پانچ سال ہوتی رہیں لیکن بنکوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ، کمیٹی نے بنکوں سے بنک اکاؤنٹس اور رقوم کی تفصیلات ، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس ، ایس ای سی پی سے کمپنیوں کے ڈائر یکٹرز کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ، کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ جن ممالک میں ترسیلات زر بھیجی گئی ان ممالک کی تفصیلات اور کمپنیوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں ، بنک سے ایک کمپنی نے 26ارب روپے سے زائد اور دوسری کمپنی نے ساڑھے 18ارب روپے سے زائد کی ٹر انزکشن کی ، بنک سے ایک کمپنی نے ساڑھے 14ارب روپے سے زائداور دوسری کمپنی نے ساڑھے8ارب روپے سے زائد کی ٹرانزکشن کی ان میں سے 35فیصد سے زائد ٹرانزکشن کیش میں کی گئی۔