• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز پھر فضل الرحمٰن کے گھر، سیاسی صورتحال پر گفتگو، صحت کیلئے دعا، 2 وفاقی وزراء اور JUI کی سینئر قیادت بھی موجود

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)وزیراعظم شہباز شریف جمعیت علماء اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر گئے‘ ان کی تیمارداری اور صحت کیلئے دعاکی۔فضل الرحمٰن نے وزیراعظم کی آمد اور نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں ملکی و سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وفاقی وزیر احسن اقبال اورعطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے‘ملاقات میں جے یوآئی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری‘ سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن‘ مولانا اسعد محمود اور محمد اسلم غوری بھی موجود تھے۔ادھروزیر اعظم نے نجکاری کے عمل کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری کے عمل کی وہ خود نگرانی کر رہے ہیں‘کسی قسم کا تعطل قبول نہیں ‘ اداروں میں مزیدزیاں برداشت نہیں کروں گا‘بروقت ضروری اصلاحات ہی سے معیشت کی بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہیں ‘ متعین کردہ اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفافیت پر سمجھوتہ کئے بغیر تیز کیا جائے‘ نجکاری کے عمل میں قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اچھی شہرت کے وکلاء کی خدمات لی جائیں ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے اپنی زیر صدارت سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل اور اس کی نگرانی کے حوالے سے بنائے گئے ٹاسک مینجمنٹ سسٹم پر جائزہ اجلاس میں کیا۔وزیراعظم کوٹاسک مینجمنٹ سسٹم کا جائزہ پیش کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے اداروں کی نجکاری کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں10 اداروں ، دوسرے مرحلے میں 13جبکہ تیسرے مرحلے میں باقی ماندہ اداروں کی نجکاری یقینی بنائی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کےلئے سب کو مل کر کام کرنا ہے‘ پاکستانی عوام کے قیمتی وسائل کا نقصان کرنے والے اداروں میں مزید زیاں کی اجازت نہیں دوں گا‘ملکی اداروں کی نجکاری حکومت کے اڑان پاکستان اقدام کا حصہ ہے،حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار و سرمایہ کاری کےلئے پالیسی، اقدمات اور سہولت فراہم کرنا ہے۔

اہم خبریں سے مزید