کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی، امریکی عوام نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ اس نئی انتظامیہ کے تحت کون سے گروہ اثر و رسوخ حاصل کریں گے اور کون سے پیچھے رہ جائیں گے،پیو ریسرچ کے سروے کے مطابق کاروباری کمپنیاں زیادہ طاقتور، دولت مند طبقے اور فوج کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا، سفید فام اور عیسائی ٹرمپ دور سے فائدہ اٹھائیں گے، ٹرانسجینڈر افراد، ہم جنس پرست ، ہسپانوی، غریب اور سیاہ فام امریکی اثر و رسوخ کھو دیں گے، 50 سال سے کم عمر بزرگ شہریوں کے مقابلے میں زیادہ پریشان ، بغیر ڈگری والے کالج گریجویٹس کے مقابلے میں قدرے زیادہ پرامید ،خواتین مردوں کے مقابلے اور سیاہ فام گوروں کے مقابلے زیادہ فکر مند ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ ترین سروے، جو 27 جنوری سے 2 فروری 2025 تک 5,086 بالغ امریکیوں کے درمیان کیا گیا، سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی معاشرے کے مختلف طبقات کے بارے میں عوامی توقعات گہری تقسیم شدہ ہیں۔ سروے کے مطابق، 70 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ بڑی کاروباری کمپنیاں ٹرمپ کے دور میں زیادہ طاقتور ہوں گی، جبکہ 65 فیصد دولت مند طبقے کے اثر و رسوخ میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ رجحان ٹرمپ کے پہلے دور سے ملتا جلتا ہے، جہاں انہوں نے کاروباری دوستانہ پالیسیوں پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ، 57 فیصد عوام فوج کے اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھتے ہیں، جو ٹرمپ کی قومی سلامتی اور سرحدی تحفظ کی سخت پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 60 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ سفید فام بھی اس دور میں فائدہ اٹھائیں گے، جبکہ 55 فیصد مردوں کے لیے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، 48 فیصد کا خیال ہے کہ عیسائی، جو ٹرمپ کے مضبوط حامی رہے ہیں، کو بھی فائدہ ہوگا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام ٹرمپ کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے بنیادی ووٹرز کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ دوسری طرف، سروے سے واضح ہوتا ہے کہ کئی گروہوں کے لیے ٹرمپ کا دوسرا دور مشکلات لا سکتا ہے۔ 84 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرانسجینڈر افراد اپنا اثر و رسوخ کھو دیں گے، جبکہ 76 فیصد ہم جنس پرستوں اور ہم جنس خواتین کے لیے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، 62 فیصد ہسپانوی، 56 فیصد غریب اور 53 فیصد سیاہ فام امریکیوں کے اثر و رسوخ میں کمی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ سیاسی وابستگی کے لحاظ سے، ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے خیالات واضح طور پر الگ ہیں۔ ریپبلکنز میں 74 فیصد فوج اور 59 فیصد کاروباری کمپنیوں کے اثر و رسوخ میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ وہ ٹرانسجینڈر (77 فیصد) اور ہم جنس پرستوں (62 فیصد) کے لیے نقصان کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ دوسری طرف، ڈیموکریٹس زیادہ تشویش ظاہر کرتے ہیں؛ 87 فیصد دولت مندوں، 82 فیصد کاروباری اداروں اور 78 فیصد گوروں کے اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھتے ہیں۔ وہ مردوں (69 فیصد) اور عیسائیوں (57 فیصد) کے فائدے کی بھی توقع رکھتے ہیں، لیکن فوج کے بارے میں ان کے خیالات تقسیم ہیں (42 فیصد بمقابلہ 34 فیصد)۔ یہ تقسیم سیاسی پولرائزیشن کی عکاسی کرتی ہے جو ٹرمپ کے دور میں مزید گہری ہو سکتی ہے۔