• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارا چنار میں تعلیمی ادارے دو ماہ کی بندش کے بعد بھی نہ کھل سکے

پاراچنار(این این آئی)پارا چنار میں تعلیمی ادارے دو ماہ کی بندش کے بعد بھی نہ کھل سکے، جس کے باعث طلبہ کے تعلیمی سال کے ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مطابق راستوں کی بندش اور فیول کی عدم دستیابی کی وجہ سے سکولوں کو کھولنا ممکن نہیں، جبکہ ٹیچرز یونینز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے فیول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ٹیچرز یونینز نے اعلان کیا ہے کہ جب تک راستے بحال نہیں کیے جاتے، تعلیمی ادارے احتجاجاً بند رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے مستقبل کے خاطر عام آمد و رفت کے لیے راستے کھولے جائیں تاکہ تدریسی عمل دوبارہ شروع ہوسکے۔دوسری جانب، علاقے میں جاری بندش نے دیگر شعبہ ہائے زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ پاک افغان خرلاچی بارڈر اور ٹل پارا چنار مرکزی شاہراہ گزشتہ پانچ ماہ سے بند ہونے کے باعث پارا چنار سمیت سو سے زائد دیہات کی پانچ لاکھ آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

ملک بھر سے سے مزید