اسلام آباد(نمائندہ جنگ )صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج عام آدمی‘ مزدور اور تنخواہ دار طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے‘ہمارے شہری مہنگائی‘ اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘میں پارلیمنٹ اور حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ اگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں‘حکومت کو آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے‘ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کم کرنے اور توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں‘میں ایوان اور حکومت کو خبردار کروں کہ آپ کی کچھ یکطرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دبائو کا باعث بن رہی ہیں،خاص طور پردریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کی یکطرفہ تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کر سکتا‘ حکومت اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جا سکے‘پارلیمنٹ کو انتہا پسند نظریات کے خاتمے اور شدت پسندی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘حکومتی کوششوں سے معیشت مستحکم ہوئی ‘ زرمبادلہ میں ریکارڈاضافہ خوش آئندہے ‘ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کوسراہتاہوں‘ہم کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں‘ہم دوبارہ دہشتگردی کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘سی پیک کے ثمرات مختلف منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے کونے کونے تک پہنچیں گے۔وہ پیر کو 16ویں پارلیمان کے دوسرے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ صدر زرداری کامزیدکہناتھاکہ ہمیں ملازمتوں میں کمی سے بچنا چاہیے، ہماری توجہ نوکریاں پیدا کرنے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے نتیجہ استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے۔آصف زرداری نے کہا کہ ملک کو یکجہتی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے ارکان پارلیمنٹ کو قومی مفاد کو بالاتر رکھنے اور ذاتی و سیاسی اختلافات پشت ڈال کر معیشت کی بحالی‘جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی ۔آصف زرداری نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں عوامی خدمت کے شعبے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر بھرپور توجہ دینی ہے۔ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، ٹیکس کے نظام میں مزید بہتر لانی ہو گی۔عوام نے پارلیمان سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں‘ ہمیں عوام کی امیدوں پر پورا اترنا ہوگا۔ملک میں سماجی انصاف کا فروغ ضروری ہے‘ عوامی بہبود کے منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ آئیے قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ذاتی وسیاسی اختلافات کو ایک طرف کرکے معیشت کی بحالی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کریں ۔صدرمملکت کا مزید کہناتھا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا، ہم کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں‘ عالمی برادری بھارتی قابض افواج کے مظالم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے‘امریکا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کامیاب انسداد دہشت گردی تعاون حوصلہ افزا ہے‘دہشتگردی سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کو انتہا پسندانہ نظریات، تشدد کی حمایت کرنے والی عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے قائم کرنے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔