کراچی( اسٹاف رپورٹر )مصطفیٰ عامر قتل کیس میں بہت سے سوالوں کے جوابات آنا باقی ہیں۔6 جنوری کی رات مصطفیٰ عامر کا قتل ہوا جبکہ 8فروری کو ڈیفنس میں اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے ملزم ارمغان کے گھر چھاپہ مارا اور وہاں سے اسلحہ، موبائل فونز ،لیپ ٹاپ اور دیگر سامان برآمد کیا۔44روز گذر جانے کے باوجود اب تک ملزم کے ذاتی لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی فرانزک رپورٹ کیوں نہیں مل سکی ہے؟کیا ملزم کے موبائل فون میں مصطفیٰ عامر کے قتل کی ویڈیو موجود ہے؟۔نیو ائیر نائٹ پارٹی میں کون کون تھا ؟کیا اس پارٹی میں شریک تمام افراد کو تفتیش کے لیے بلایا گیا؟۔ارمغان کے والد نے میڈیا کو بتایا تھا کہ انہوں نے پولیس ریڈ کے دوران بلال ٹینشن نامی شخص کو فون کر کے وہاں پہنچنے کا کہا ۔بلال ٹینشن کون ہے اور پولیس نے اب تک بلال ٹیشن کو تفتیش کے لیے بلایا؟۔مصطفیٰ کی والدہ نے ایک لڑکی کا نام لیا تھا جس کا مصطفیٰ اور ارمغان دونوں سے تعلق تھا،پولیس نے اس لڑکی کو شامل تفتیش کیا؟۔اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مصطفیٰ کے والدین کو تاوان کی کال کس نے کی تھی۔ارمغان کے گھر کا مالک کون ہے؟رہائشیوں کی جانب سے گھر میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا گیا لیکن پولیس نے اس وقت کارروائی کیوں نہیں کی ؟۔ارمغان کے گھر سے ملنے والے سیف لاکرز میں سے کیا نکلا ؟۔اسکردو میں ملزم ارمغان اور شیراز کس کے پاس جا کر ٹھہرے اور کس نے انھیں وہاں گاڑی اور گھر مہیا کیا کیونکہ ملزم جرم کے بعد اپنے محفوظ مقام پر جا کر چھپتا ہے۔ کیا اسکردو میں بھی کوئی کال سینٹر موجود ہے؟ کیا پولیس نے گلگت بلتستان پولیس سے اس حوالے سے معلومات لینے کے لیے رابطہ کیا؟۔ارمغان کے چچا آصف قریشی ڈی آئی جی سی آئی اے کے دفتر میں تعینات ہیں ،اس کیس کے دوران انھیں وہاں سے کیوں نہیں ہٹایا گیا؟۔ڈیفنس میں پارٹیوں میں منشیات کی فروخت اور منشیات کے نیٹ ورک پر اے این ایف نے کیا کارروائی کی ؟۔پولیس نے چھاپے کے دوران ارمغان کے گھر سے 64 لیپ ٹاپ قبضے میں لیے جبکہ بعد ازاں 18 لیپ ٹاپ ایف آئی اے نے تحویل میں لیے۔پولیس نے پہلے ان 18 لیپ ٹاپس کو کیوں وہاں چھوڑا اور پھر تین ہفتے تک یہ لیپ ٹاپ ایف آئی اے کے حوالے کیوں نہیں کیے ؟اگر پولیس نے گھر کی پوری سرچنگ کی تو 18 لیپ ٹاپ وہاں کیوں چھوڑ دئیے؟۔