اسلام آباد (ساجد چوہدری) ایمازون نے بھی تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے رواں ہفتے کے دوران تقریباً اڑھائی درجن سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے، اس طرح ایمازون نے اپنے پراجیکٹ کائپر کے ذریعے ایلون مسک کے سٹارلنک کو ٹکر دینے کا منصوبہ شروع کر دیا، اس منصوبے کے تحت 9 اپریل کو 27 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جائیں گے۔
پراجیکٹ کائپر کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ سٹارلنک اب اس دوڑ میں اکیلا نہیں رہا، اس طرح دو ارب پتیوں کے درمیان برسوں سے جاری مقابلے کا نیا باب شروع ہو رہا ہے۔
ایمازون کے 80 سے زائد لانچز کے معاہدے، حیران کن طور پر سپیس ایکس کے فالکن 9راکٹس بھی شامل ہیں ، ایک رپورٹ کے مطابق ایمازون نے اعلان کیا کہ اس کا پراجیکٹ کائپر 9 اپریل کو اپنا پہلا مشن ’’KA-01‘‘ شروع کرے گا، جس میں 27 سیٹلائٹس فلوریڈا سے 450 کلومیٹر کی بلندی پر بھیجے جائیں گے۔
اس منصوبے کے تحت 3200 سیٹلائٹس کا نیٹ ورک بنایا جائے گا، جو سٹارلنک کے مقابلے میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرے گا۔
ایلون مسک کا سٹارلنک جو 2018 سے کم زمینی مدار میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں سرفہرست تھا، اب تنہا نہیں رہا۔ سٹارلنک کے 7000 سے زائد سیٹلائٹس، مزید بارہ ہزار سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا منصوبہ اور سو ممالک میں 40 لاکھ صارفین کے باوجود پراجیکٹ کائپر کا آغاز اس شعبے میں ایک نئے مقابلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پراجیکٹ کائپر کے منصوبوں کا مطلب ہے کہ پہلی بار سٹار لنک کا بڑا مقابلہ ہوگا۔
ایمازون نے 80 سے زیادہ لانچز کے معاہدے کئے ہیں، جن میں حیران کن طور پر سپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹس بھی شامل ہیں جو اسے اپنے حریف کے وسائل استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔