راولپنڈی(راحت منیر)چٹ پٹے،بازاری کھانے اور میٹھے مشروبات پاکستانیوں میں موت بانٹنے لگے ہیں۔دل،شوگر،موٹاپے،اندھے پن اور عارضہ گردوں کی بیماریوں کے پھیلاؤ میں دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ چٹ پٹے ، بازاری کھانے اور میٹھے مشروبات بھی شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق دل،گردوں اور دیگرلاعلاج بیماریوں کے باعث روزانہ 22سو افراد موت میں منہ میں جارہے ہیں۔جبکہ صرف شوگر کے باعث روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد گیارہ سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ان اموات کی وجوہات میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ایک بڑا حصہ چٹ پٹے ، بازاری کھانوں،جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا ہے۔پاکستان ہارٹ ایوسی ایشن کہنا ہے کہ ہماری کھانے پینے کی غیر متوازن عادات سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھ گیا ۔ ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ایک نارمل شخص کو روزانہ پانچ سے سات چائے کے چمچ چینی اور پانچ گرام نمک سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے جبکہ اس کے برعکس ایک عام پاکستانی روزانہ 80گرام چینی مشروبات اور دیگر ذرائع سے لے رہاہے۔جبکہ نمک کی کم سے کم مقدار دس گرام لیتاہے۔رہی سہی کسر چکنائی نے پوری کردی ہے۔ایک نارمل انسان کوایک سال میں چھ سے سات کلو چکنائی بشکل گھی، مکھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ایک پاکستانی 27کلو سالانہ استعمال کرتا ہے۔جس کے باعث دل کے امراض،گردوں کے امراض،زیابیطس وغیرہ کا پھلاؤ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔اور روزانہ سیکڑوں اموات کی ایک وجہ بن رہے ہیں۔مری میں غیر صحت بخش خوراک کے اثرات سے بچاؤ کے موضوع پر سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن(پناہ)کے سیکرٹری جنرل ثنا اللہ گھمن کے مطابق ایک پانچ ایم ایل کے مشروب میں25چائے کے چمچ چینی کے برابر میٹھا استعمال ہورہا ہے۔پاکستان میں شوگر کے پھیلاؤ میں13فیصد حصہ مشروبات کا ہے۔ہماری کھانے پینے کی غیر متوازن عادات کے باعث قومی خزانے پر بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔کیونکہ بیماریوں سے لڑنے لئے بھاری زرمبادلہ خرچ کرکے ادویات یا خام مال بیرون ملک سے منگواتے ہیں۔