• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت، 70 ہزار کیوسک پانی آنے کا خطرہ، انڈیا کا مادھوپور ہیڈورکس ٹوٹنے کے باعث مزید پانی آئے گا، PDMA پنجاب

لاہور (نیوز رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے۔

عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ بھارت کا مادھوپور ہیڈورکس ٹوٹنے کے باعث مزید پانی آئے گا، جب تک پانی کی سطح کم نہیں ہوتی زیر آب مقامات پر پانی کم نہیں ہوگا، بھارت سے درست معلومات نہیں ملیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ گنڈا سنگھ پر اس وقت پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے، جس کے باعث فوج اور ضلعی انتظامیہ نے رات کو 20 دیہات کو خالی کروایا، ہیڈ سلیمانکی پر 1 لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ اگلے 24 گھنٹے میں ہیڈ اسلام کیلئے خطرات لاحق ہیں۔ 

عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت کا مادھوپور ہیڈورکس ٹوٹنے کے باعث مزید پانی آئے گا، لاہور سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے، تاہم قصور اور ملتان کیلئے اب بھی خطرہ برقرار ہے، جھنگ شہر کو بچانے کیلئے بند توڑنا پڑا۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 75ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور قادر آباد برج پر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے، ہیڈ تریمو پر کل صبح 6 سے 9 بجے جھنگ کے مقام پر 9 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ راوی میں 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلا پہلے ہی گزر چکا ہے اور اس وقت 1 لاکھ 29 ہزار کیوسک کا ریلا موجود ہے، بلوکی میں 2 لاکھ 11 ہزار کیوسک اور ننکانہ صاحب سے 20 ہزار کیوسک پانی شامل ہو چکا ہے۔ ہیڈ محمد والا پر 7 لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان تک پہنچے گا، جہاں شگاف ڈالنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ 

اُنہوں نے بتایا کہ لاہور اب بالکل محفوظ ہے جبکہ دریائے راوی میں طغیانی کے سبب آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت لاہور سے نیچے کے اضلاع کیلئے سخت ہوں گے۔

قبل ازیں، عرفان علی کاٹھیا نے بتایا تھا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے سبب پانی قصور کی طرف بڑھا ہے، دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر 1955ء کے بعد تاریخ میں سب سے زیادہ پانی آیا ہے۔ قصور شہرکو بچانےکا چیلنج درپیش ہے۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ سیلاب میں پھنس جانے والے 4 لاکھ 81 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں351 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے321 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں 4 لاکھ 5 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، سیلاب میں ڈوبنے سے 30 شہری جاں بحق ہوئے، لاہور میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

نبیل جاوید نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت کی آبی جارحیت اور ڈیموں سے پانی پاکستان میں چھوڑے جانے کے باعث صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع اور شہر سیلاب کی زد میں آچکے ہیں، دریائے چناب، ستلج، راوی میں طغیانی کے باعث سیالکوٹ، نارووال، وزیر آباد ،جھنگ ،قصور ،سمیت کئی اضلاع میں صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔

چناب اور ستلج کے بپھرنے سے پنجاب کے 2 ہزار 308 موضع جات زیر آب ہیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، مزید 3 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، سیلاب سے 15 لاکھ 16ہزار افراد متاثر جب کہ 33 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی شدید ہے اور جس کے باعث صورتحال مزید خراب ہوچکی ہے، لاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوب گئے، شہر میں اوسطاً 84.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے، ملتان میں موسلادھار بارش، رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی، پاکپتن میں آبی ریلے نے تباہی مچا دی، متعدد بند ٹوٹ گئے، کئی بستیاں زیر آب آگئیں، سیلاب متاثرین میں متعدی امراض بھی پھیلنے لگے ہیں، پنجاب میں صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

اب تک سیلاب کے باعث صوبے میں 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم بروقت ریسکیو آپریشنز کے باعث مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔

بھارتی مقبوضہ علاقے سے آزاد کشمیر میں دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا گیا ہے، بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی کا ریلا کنٹرول لائن چکوٹھی کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہو رہا ہے۔ 

چنیوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 2 گھنٹوں سے زائد وقت سے ملسل بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شیخوپورہ اور گرد و نواح میں تیز بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔

جہلم شہر اور گرد و نواح میں بارش سے ندی نالے بپھر گئے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، ندی نالوں کا پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ مسلسل بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکپتن میں اونچے درجے کے آبی ریلے نے تباہی مچادی جس کے باعث متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے جبکہ کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں، اہم سڑک کے ڈوبنے سے کئی آبادیوں کا زمینی راستہ منقطع ہوگیا ہے جس سے علاقہ مکینوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔

ظفروال سے لہڑی کو ملانے والے واحد راستے پر شگاف پڑ گیا، درجنوں دیہات کا رابطہ منقطع ہوگیا، ہزاروں ایکڑ پر چاول کی فصلیں تباہ ہوگئیں، سیالکوٹ کے قصبہ بڈیانہ سے گزرنے والے برساتی نالے نے تباہی مچا دی، گردونواح کی آبادیاں زیر آب آ گئیں۔

سیالکوٹ پسرور روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی، بجوات کے 85 دیہات کا سیالکوٹ سے زمینی رابط منقطع ہوگیا، سیلابی پانی کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔

ملتان کی حدود میں آج شام تک سیلاب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے، 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے۔

جلالپور پیروالا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جس سے 140دیہات متاثر ہوئے ہیں، راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کےپیش نظر نشیبی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔

بہاولپور میں دریائے ستلج کےکناروں پر نشیبی علاقوں کے مکینوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جب کہ دریائی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی جارہی ہے۔

دریائے چناب کے سیلابی ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے متاثر ہیں، حافظ آباد کے چالیس دیہات اب بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔ 

چشتیاں کے نواحی علاقوں میں ستلج کی طغیانی سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔

لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح میں کمی ہونے لگی ہے، اس وقت شاہدرہ کے مقام سے 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ریلا گزر رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے زائد کا ریلا گزر رہا تھا، جس کے بعد کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئی تھیں۔

ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق اب تک دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 92 ہزار 844 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب، پشاور میں شدید بارش سے اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے، وارسک روڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے پر شہریوں کو کشتیوں میں ریسکیو کرنا پڑا، مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق ہوگئی۔ 

اہم خبریں سے مزید