اسلام آباد(تنویر ہاشمی، مہتاب حیدر ) آئی ایم ایف نے کہا ہےکہ آئندہ ایک سے تین برس کےد وران پاکستان کی معیشت کے لیے جغرافیائی سیاسی تناؤ ، تجارت میں رکاوٹ اور غیر یقینی پالیسیاں ، اشیاء کی قیمتوںمیں اضافہ ، مالیاتی مارکیٹ میں اتارچڑھائو، مالیاتی کمزوریاں اور طویل عرصے تک زیادہ شرح سود ،بین الاقوامی امداد میں کمی ، بڑھتا ہوا سماجی عدم اطمینان، موسمیاتی تبدیلیاں ، پالیسیوں پر موثر عملدرآمد کا نہ ہونا بڑے خطرات ہیں ، یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ملک کو ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت پڑ سکتی ہے،آئی ایم ایف نے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کی اقتصادی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ،آئی ایم ایف رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے بڑے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنائو کے باعث اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ مہاجرین کی نقل مکانی اور مہنگائی بڑھ سکتی ہے، اس کے سرمایہ کاری ، سیاحت ، تجارت اور سپلائی چین پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اگرچہ یہ مختصر مدتی خطرہ ہے۔