• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھاپوں کا سلسلہ بند اورتاجروں کا سامان واپس کیا جائے،مرکزی انجمن تاجران

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کسٹم اور ایف سی کی جانب سے ہزار گنجی میں گزشتہ شب 200 دکانوں پر چھاپے مار کر 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا قانونی سامان لے جانے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تاجروں کا سامان فوری طور پر واپس اور چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے بصورت دیگر سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر حضرت علی اچکزئی ، میر یٰسین مینگل ، عمران ترین ، سید عبدالخالق آغا ، حاجی نقیب کاکڑ ، محمد جان درویش ، حضرت علی ، حاجی محمد رحیم ، سید عبدالمالک ، حاجی حمید اللہ، حاجی اسد اللہ، سلمان شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب 2 بجے ایف سی اور کسٹمز کے اہلکاروں نے دکانوں پر چھاپے مار کر کروڑوں روپے مالیت کا سامان اٹھا لیا واقعہ کی اطلاع ملنے پر تاجروں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچی اور احتجاج کیا یہ تمام سامان قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پاکستان کے دیگر صوبوں اور شہروں سے کوئٹہ لایا گیا تھا جس کے تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اس کے باوجو دکانوں پر چھاپے مار کر تاجروں کو ہراساں اور انہیں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے ،پہلے ہی بارڈروں کی بندش ، ٹیکسز میں بلاجواز اضافے اور غیرقانونی اقدامات سے تاجر نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں اس سے قبل بھی اس طرح کی کارروائیاں کی گئی تھیں ہمارے احتجاج پر یہ سلسلہ 4 سال تک رکا رہا ۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکس کے ذریعے کراچی پورٹ اور راولپنڈی سے گاڑیوں کے پرزہ جات لاتے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سپلائی کرتے ہیں قانونی کاروبار کرنے والوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان ، آئی جی ایف سی و دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ تاجروں کا سامان واپس کیا جائے بصورت دیگر کسٹم ہاؤس کے سامنے سمیت قومی شاہراہوں پر احتجاج اور ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کلیکٹر کسٹم سے ملاقات کرکے قانونی سامان کی واپسی کا تقاضہ کریں گے اگر سامان نہ ملا تو عدالت سے رجوع کریں گے۔
کوئٹہ سے مزید