• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

9 مئی واقعات، سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا کی موجودگی کی تصدیق

پشاور (ارشد عزیز ملک)پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی پشاور واقعات میں اہم سیاسی شخصیات کی موجودگی کی تصدیق کر دی-پشاور میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق ویڈیوز اور آڈیو ویژول مواد کے فرانزک تجزیے پر مبنی پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی تفصیلی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں متعدد اہم سیاسی شخصیات کی واقعات کے دوران موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ فرانزک رپورٹ کے حوالے سے خیبر پختونخواحکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھو ں نے رپورٹ کی تصدیق یا تردید سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ اس رپورٹ کے حوالے کوئی کمنٹس نہیں دے سکتےسابق صوبائی وزیر خزانہ خیبرپختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے خبروں اور الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے  کہا کہ  نامزد ہوں اور نہ ہی ضمنی چالان میں شامل، کامران بنگش، عرفان سلیم اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی اس کیس میں نہ نامزد ہیں اور نہ ہی زیرِ تفتیش ہیں  ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ پشاور پولیس کی درخواست پر تیار کی گئی، جس میں تھانا شرقی پشاور کی جانب سے فراہم کی گئی یو ایس بی میں موجود 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم فرانزک تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ یا رد و بدل کے شواہد نہیں ملے، تاہم چند ویڈیوز میں کلپس کو جوڑنے اور لوگو یا تحریری متن شامل کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کامران بنگش، سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی 9 مئی کے واقعات سے متعلق ویڈیوز میں ثابت ہوئی ہے۔ لیبارٹری نے ان افراد کی سوشل میڈیا یا دستیاب پروفائل تصاویر کو ویڈیوز میں موجود افراد سے موازنہ کیا، جس کے بعد فیشل میچنگ کے ذریعے ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی اور عرفان سلیم سے متعلق بعض ویڈیوز میں کلپس کے جوڑے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں، تاہم اس کے باوجود پروفائل میچنگ کے عمل میں ویڈیوز میں موجود افراد اور پروفائل تصاویر کے درمیان واضح مطابقت پائی گئی۔ اسی طرح کامران بنگش اور تیمور جھگڑا کی پروفائل تصاویر کو بھی ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد سے میچ قرار دیا گیا ہے۔پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ یہ تجزیہ صرف ویژول مواد تک محدود رکھا گیا اور آڈیو مواد یا کسی قسم کے پس منظر عوامل کو شامل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کی تیاری کا عمل 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے دوران مکمل کیا گیا۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے کے مقدمے میں پولیس سے فرانزک رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد پشاور پولیس نے ویڈیوز کے تجزیے کے لیے مواد پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو ارسال کیا۔

اہم خبریں سے مزید