کراچی (نیوز ڈیسک)برطانوی جریدے کے مطابق رضا پہلوی دوبارہ زیر بحث47 برس بعد تاریخ دہرانے کا خدشہ ہے، اندرونی احتجاج اور بیرونی خطرات کے درمیان ایرانی نظام لرزنے لگا، ایک ڈالرکے تقریباً 15 لاکھ ،ریال کی تاریخی گراوٹ اور مہنگائی نے ایرانی عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا،تہران میں بحث کہ آیا نظام کو بچانے کے لیے کسی قربانی کی ضرورت تو نہیں۔۔ تفصیلات کے مطابق اکانومسٹ لکھتا ہے ایران میں اندرونِ ملک احتجاج اور بیرونی محاذ پر بڑھتے ہوئے خطرات نے حکومت کو غیر معمولی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ عوامی بے چینی، شدید معاشی بحران اور امریکا و اسرائیل کی جانب سے اشارہ ملنے والی ممکنہ کارروائیوں نے ایرانی نظام کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ریاستی گرفت کمزور اور قیادت بے یقینی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔موجودہ احتجاج دو حوالوں سے ماضی سے مختلف ہے۔ ایک تو ایران ایک سال سے شدید معاشی زوال، جنگ اور ماحولیاتی بحران کا شکار ہے، اور قیادت کے پاس ان مسائل کا کوئی حل نہیں۔ دوسرا فرق بیرونی مداخلت کے خدشے کا ہے، خواہ وہ اسرائیل کی جانب سے ہو یا امریکا کی طرف سے۔ 3 جنوری کو امریکا کی جانب سے وینزویلا میں نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی کے بعد ایران میں یہ سوال شدت سے اٹھا کہ آیا اگلا نمبر ایران کا تو نہیں۔