• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاق یا فوج کی جانب سےوادی تیراہ خالی کرانے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا، حکومت

اسلام آباد(جنگ نیوز)حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں (IBOs)اور اس دوران پُرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ اِن کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مقامی آبادی خود خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت (اطلاعات کے مطابق 4 ارب روپے) کی رقم جاری کی گئی ہے۔ یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر رکھی گئی ہے، تاکہ پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کیے جا سکیں، جن میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام اور انتظام شامل ہے۔اس دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔ اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے، اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر بھی انجام دیا جائے گا۔لہٰذا صوبائی حکومت یا اُس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اِس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
اہم خبریں سے مزید