اسلام آباد (محمد صالح ظافر) ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عالمی سیاست میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے لچکدار پالیسیاں اپنانا ہونگی۔ NNS2025 امریکی حکمت عملی اور خطے پر اس کے اثرات، سینئر سفارتکار اور ماہرین نے راؤنڈ ٹیبل میں اپنی رائے پیش کی۔ اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (CISS) کی جانب سے پیر کو منعقدہ راؤنڈ ٹیبل میں ماہرین اور سینئر سفارتکاروں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی منظرنامے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لچکدار اور محتاط پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔ یہ ضرورت اس وقت اور بڑھ گئی ہے جب عالمی نظام زیادہ منتشر اور مسابقتی ہو رہا ہے، جبکہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی (NSS-2025) ایک حقیقت پسند، سوداگرانہ انداز کی عکاسی کرتی ہے جو امریکی بالادستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس پروگرام میں شریک شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ NSS-2025 قدروں پر مبنی کثیر الجہتی تعلقات سے ہٹ کر مقابلہ بازی پر مبنی ریاستی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے خطے کی استحکام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخاب پر دور رس اثرات ہوں گے۔