• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP حکومت ناکامی فوج پر نہ ڈالے، تیراہ میں آپریشن نہیں ہورہا، اصل جھگڑا بھنگ کی کاشت، منافع TTP کو جاتا ہے، وفاقی حکومت

اسلام آباد(اے پی پی)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہورہا‘وہاں پر برف باری اور سخت موسم کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کا حصہ ہے ‘یہ کوئی بحران نہیں ‘وادی تیراہ کے حوالے سے صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے معاملات طے پائے جس کے بعدنقل مکانی کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ‘ اس معاملے میں کہیں بھی فوج شامل نہیں‘کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا آپریشن پرنہ ڈالے ‘ وادی تیراہ کے12ہزار ایکٹر پر بھنگ کاشت ہو رہی ہے اور اسکا منافع بھی ٹی ٹی پی کو جارہا ہے‘اس فصل سے 35 لاکھ فی ایکڑ کمائی ہوتی ہے اور یہی اصل جھگڑا ہے‘کے پی حکومت لوگوں کی مشکلات کو اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرے‘وادی تیراہ میں اس وقت بھی 500 سے زائد ٹی ٹی پی کے لوگ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ رہ رہے ہیں‘دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن جاری رہیں گے‘وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑکا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں‘ انخلا کی خبروں کو فوج سے جوڑنا غلط بیانی ہے‘خیبر پختونخوا کے ترجمان اس حوالے سے بے بنیاد بیان بازیوں میں مصروف ہیںجبکہ وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی نے کہا کہ یہ پراجیکٹ بنا کر پیسے نکالتے ہیں اور اسٹریٹ موومنٹ پر لگاتے ہیں‘مال بنانے کیلئے ایک پراجیکٹ بنایا گیا ہے‘ حکومت اور فوج کا اس پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔منگل کو سرکاری ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں عطا اللہ تارڑ اور اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہناتھاکہ مشیران جرگہ اور صوبائی حکومت کے مابین تین ملاقاتوں کے بعد 5 ارب روپے اس نقل مکانی کے لئے مختص کیے گئے ہیں ‘ اس سارے عمل میں پاک فوج کہیں بھی نہیں ہے ، وادی تیراہ کے 12 ہزار ایکٹر پر بھنگ کاشت ہورہی ہے اور اسکا منافع بھی ٹی ٹی پی کو جارہا ہے‘پی ٹی آئی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاک فوج پر ڈالنا چاہتی ہے ‘ہر سال کی طرح اس سال بھی وادی تیراہ کے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے‘ اس سے قبل مشیران جرگہ کے لوگوں نے کے پی حکومت کے ساتھ 11 دسمبر ، 24دسمبر اور پھر 26 دسمبر کو ملاقاتیں ہوئیں اسی کی روشنی میں کے پی حکومت نے 4 ارب روپے کا مائیگریشن پیکیج بھی مختص کیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔

اہم خبریں سے مزید