• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپر ٹیکس دینا پڑے گا، آئینی عدالت نے تمام درخواستیں خارج کردیں

اسلام آباد (رپورٹ: رانا مسعود حسین) وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس اور انکم ٹیکس آرڈیننس سے متعلق تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے، ہائیکورٹس نے ان دفعات کو کالعدم قرار دیکر تقسیم اختیارات کے نظریہ کی خلاف ورزی کی، جبکہ حکومتی وکیل حافظ احسان کھوکھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے فیصلے سے نہ صرف قومی خزانے کے تقریبا 310 ارب روپے کا ریونیو بچ گیا ہے بلکہ مستقبل کے ٹیکس مقدمات کیلئے بھی ایک ٹھوس مثال قائم کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات ہاء 4(b) اور 4(c) کو آئین کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے اسلام آبادہائی کورٹ، لاہورہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق فیصلوں کو کالعدم قرار دیدیا ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے، سپر ٹیکس دینا پڑے گا۔ یاد رہے کہ اس فیصلے سے قومی خزانے کے تقریبا 310 ارب روپے کا ریونیو محفوظ ہو گیا ہے۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات ہاء 4(b) اور 4(c) سے متعلق 22سو سے زائد اپیلوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد مختصر فیصلہ جاری کردیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید