کراچی (نیوز ڈیسک) جیف بیزوس کے زیرِ ملکیت واشنگٹن پوسٹ نے تقریباً ایک تہائی ملازمین کو برخاست کر دیا، جس سے پہلے ہی دباؤ میں موجود نیوز روم کو مزید دھچکا لگا۔ بیزوس نے فوری طور پر کسی تبصرے سے اجتناب کیا، لیکن رپورٹ کے مطابق وہ اخبار کو منافع بخش بنانے کے لیے انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں۔ سابق پوسٹ فیکٹ چیکر گلین کیسلر نے کہا بیزوس واشنگٹن پوسٹ کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہا، بلکہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے علاوہ اخبار کے کاروباری شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی جا رہی ہیں تاکہ دباؤ میں موجود آپریشنز کو مستحکم کیا جا سکے۔ اخبار کے ایگزیکٹو ایڈیٹر میٹ موری نے داخلی میمو میں کہا کہ بڑے پیمانے پر برطرفیوں میں تقریباً تمام نیوز ڈپارٹمنٹس متاثر ہوں گے، جس میں میٹرو ڈیسک کو بہت کم کرنا، اسپورٹس سیکشن کا تقریباً مکمل بند ہونا، کتابوں کے سیکشن کی بندش اور روزانہ کے پوسٹ رپورٹس پوڈکاسٹ کی منسوخی شامل ہے۔ بین الاقوامی کوریج بھی محدود کی جا رہی ہے۔