• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس کے اختیارات میں کمی کالعدم، کے پی حکومت کا فیصلہ چیلنج کرنے کا علان

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پولیس ایکٹ میں2024 کی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خوا شاہ فیصل اتمانخیل کا کہنا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے، درخواست میں جن کو فریق بنایا گیا، ان سے جواب طلب نہیں کیا گیا فیصلہ یکطرفہ طور پر دیا جسکو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کریں گے جبکہ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ اس ضمن میں جاری بیان کے مطابق فیصلہ منتخب جمہوری نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کرتا ہے، آئین کا آرٹیکل 129، صوبے کی انتظامی اتھارٹی کو وزیرِ اعلیٰ اور صوبائی کابینہ میں مرتکز کرتا ہے۔عدالت نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کی گئی 2024 کی ترمیم کو کالعدم قرار دیاہے۔عدالت نے گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تقرریاں وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنے کو غیر آئینی قراردیا۔
اہم خبریں سے مزید