کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ پولیس میں شعبہ تفتیش کے ایک آفیسر نےاعلیٰ حکام کی جانب سے مبینہ طورپر ذاتی مفادات کے حصول کے لیے دھمکیاں اور ہراساں کئے جانے پراعلیٰ افسران کے نام اپنے استعفیٰ پیش کردیا ،تفصیلات کے مطابق تھانہ سکھن کےسینئر انوسٹی گیشن آفیسر (ایس آئی او) انسپکٹر فرید خان کی جانب سےایس ایس پی انوسٹی گیشن ملیر کے نام لکھے گئے استعفیٰ نامہ میں کہا گیا ہےکہ انویسٹی گیشن آفیسر فائلوں کے معاملے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے، خاص طور پر جب تفتیشی افسر کو اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ شو کاز نوٹس، سزا اور برخاستگی کے نام پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے دھمکیاں اور ہراساں کیا جارہا ہو،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے استعفیٰ نامہ میں انسپکٹر فرید خان کی جانب سے کہا گیا ہےکہ بدقسمتی سے انویسٹی گیشن آفیسر کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حقیقت میں انویسٹی گیشن آفیسر تحقیقات کی عمارت کا بنیادی ستون ہے اور دیگر تمام درجے اس کی حمایت اور مدد کے لیے ہیں لیکن یہاں حقیقت اس کے برعکس ہے، قانون کے مطابق، انویسٹی گیشن افسر آزاد ہے فرید خان کے نام سے منسوب خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ حال ہی میں، ایسٹ زون کے اعلی حکام نے مجھے 173 سی آر پی سی کی رپورٹ چالان میں جمع کرنے کا حکم دیا جبکہ شفاف تفتیش کے مطابق کیس کی "بی کلاس" کی رپورٹ بنتی تھی، مزید لکھا گیا کہ اعلیٰ حکام تفتیشی افسران کی طاقت کو کم کرتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔