ملتان(سٹاف رپورٹر) آل پاکستان پاور لومز ایسوسی ایشن نے حکومت کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر خالق قندیل انصاری نے کہا کہ بار بار وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انجینیئر بیوروکریسی کی صارف دشمن پالیسیوں کا نوٹس لیں۔ پاور ڈویژن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں( ڈسکوز) لاکھوں صارفین سے کیے گئے معاہدوں سے منحرف ہو گئی ہیں حکومت نے صارفین کو کلین اینڈ گرین انرجی کے سبز انقلاب کا سبز باغ دکھا کر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کروا دی۔غریب اور متوسط طبقات میں دنیا میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی سے جان چھڑوانے کیلئے نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کیے لیکن 7سالہ معاہدوں کی نصف مدت کی تکمیل سے قبل ہی ان معاہدوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔نئے نیٹ میٹرنگ کنکشن اب نیٹ بلنگ کی بنیاد پر فراہم کیے جائیں گے اور سولر صارفین سے ان کے اپنے سسٹم سے بنائی گئی بجلی کا بھی بھاری بل وصول کیا جائے گا ۔خطے کے ممالک سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی یک طرفہ اور جابرانہ فیصلے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔وزیراعظم ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دیں جو عوام کے حق میں ہمدردانہ رائے رکھتے ہوں اور نیٹ میٹرنگ صارفین کو اس نئے ظالمانہ نظام اور پالیسی سے نجات دلائیں وگرنہ ملک میں گھریلو صنعتوں پاور لومز انڈسٹری اور ایس ایم ای سیکٹر کی وسیع پیمانے پر بندش نوشتہ دیوار ہے اور لاکھوں صنعتی ورکرز کی بے روزگاری سامنے کھڑی ہے جو حکومت کی معاشی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے دعووں کی یکسر نفی ہے ۔ اجلاس میں حاجی بشیر پہلوان انصاری حاجی ارشاد قادری حاجی سعید احمد سعیدی ، محمد یونس انصاری ثنا اللہ انصاری ،حاجی بشیر سلک والا ، حاجی عبدالغفور انصاری ، صابر علی انصاری ، حاجی مشتاق، حاجی لیاقت انصاری، اشرف گوگا انصاری اور دیگر افراد نے شرکت کی۔