ملتان (فورم رپورٹ؍شازیہ ناہید) آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کےتقریباً 20فیصد حصےکی گزرگاہ ہے اس کی بندش سپلائی میں رکاوٹ پیدا کرے گی۔ طویل بندش تیل کی قیمتوں کو انتہائی بلند سطح تک لے جا سکتی ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ کرے گا اور جاری کھاتے کے خسارے کو مزید بڑھا دے گا۔ڈالر کی طلب میں اضافہ پاکستانی روپے کو کمزور کر سکتا ہے۔مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی۔افراط زر کے ساتھ غذائی قلت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔پاکستان کو تیل اور گیس کی سپلائی کے متبادل راستے تلاش کرنے کے ساتھ تیل اور گیس کی داخلی پیداوار بڑھانے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔شمسی، ہوا اور پن بجلی جیسے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار’’ آبنائے ہرمز کی بندش۔۔پاکستانی معیشت ۔۔متبادل حکمت عملی درکار‘‘ کے موضوع پر جنگ فورم میں ماہرین نے کیا۔سابق چئیرمین شعبہ کامرس پروفیسر ڈاکٹر حنیف اختر نے کہا کہ عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اس کی بندش سپلائی میں رکاوٹ پیدا کرے گی، جس سے بڑے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان متاثر ہوں گے۔سپلائی میں خلل اور منڈی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث چند ہی دنوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی ماحول پیدا ہوگا، مہنگائی کی توقعات بڑھ سکتی ہیں، اور سونا و دیگر قیمتی دھاتوں جیسے محفوظ اثاثوں کی مانگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ طویل مدت میں قابلِ تجدید توانائی اور خلیج کے علاوہ دیگر تیل فراہم کرنے والے ممالک میں سرمایہ کاری بڑھنے کے امکانات ہیں۔تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔حکومت کو ممکنہ طور پر ضروری شعبوں میں سبسڈی بڑھانا پڑے گی اور خسارے کی مالی معاونت کے لیے بیرونی قرضوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔اگر صورتحال برقرار رہی تو آئی ایم ایف یا دیگر بیرونی مالیاتی ذرائع پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔پیٹرولیم کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنا،توانائی کی درآمدات کو متنوع بنانا،غیر ضروری درآمدات میں کمی کر کے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا،مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔چئیرمین شعبہ اکنامکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورڈاکٹرمحمد عاطف نوازنے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے مارکیٹ میں تیل کی سپلائی رکنے سے پٹرول کی قیمتوں میں آٹھ سے نو فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ ڈالر کی طلب بڑھنے سے امپورٹ بل ، کرایے ،انشورنس چارجز بڑھ جائیں گے۔پیٹرول، ڈیزل کے ساتھ ایل این ین جی کی قیمت بھی بڑھے گی۔یہ رکاوٹ اگر چند ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہو جاتی ہے تو طلب کو پورا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔پاکستان کا امپورٹ بل اور تجارتی خسارہ بڑھے گا۔افراط زر کے ساتھ شرح سود بھی بڑھے گی ، پاکستان میں مہنگائی کی ایک اور نئی لہر آئے گی۔زر مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر بھی دباؤ بڑھے گا۔سعودی عرب، قطر، عمان، یو اے ای ،بحرین، کویت میں پاکستانی افرادی قوت موجود ہے اگر ترسیلات زر متاثر ہوتی ہیں تو اس کے پاکستانی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان کو متبادل روٹ ابھی سے تلاش کرکے ان پر کام کرنا ہوگا۔حکومت یونیورسل سبسڈی دینے کی بجائے اہم شعبوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دے سکتی ہے ۔حکومت سولر انرجی میں عوام کی حوصلہ شکنی نہ کرے۔ماہر معاشیات شیہنلا الطاف نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر فوری اور طویل المدت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔تیل کی قیمتوں میں 10فیصدتک اضافہ ہو سکتا ہے۔پاکستان کو تیل اور گیس کی سپلائی کے متبادل راستے تلاش کرنے کے ساتھ داخلی تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔پاکستان کو اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔