• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی کابینہ کا 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے پر غور، 40 سے 50 ارب کی ممکنہ بچت

اسلام آ باد (رانا غلام قادر ) وفاقی کابینہ کا 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے پر غور، 40سے 50ارب کی ممکنہ بچت کا امکان ،نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 تا9 ماہ، چھپائی ، تبدیلی اور انتظامی اخراجات کا تخمینہ 8 سے 10 ارب روپے ہے جبکہ سکہ تیار کرنے کی لاگت زیادہ ہے اوسط عمر 20 سے 30 سال ، اس کی دہائیوں تک دوبارہ تیار کرنےکی ضرورت نہیں پڑتی،وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ رپورٹ کابینہ کو بھجوادی ،10روپے کانوٹ ختم ہوگایا نہیں؟ فیصلہ وفاقی کابینہ کریگی۔ معاملہ گزشتہ ماہ کابینہ کے اجلاس میں زیر غور آیا ۔کابینہ نےوزیرخزانہ کی سربراہی میں کمیٹی کوٹاسک دیاتھا اور سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی تھی کہ دس روپےکابینک نوٹ ختم کیاجائے یا نہیں ؟ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ رپورٹ کابینہ کو بھجوادی ہے۔ذرائع کے مطابق 10روپے کا سکہ متعارف کروانے سے حکو مت کو 40سے 50ارب روپے کی ممکنہ بچت ہوگی۔اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن قوانین کےتحت کرنسی مینجمنٹ رپورٹ تیار کی گئی ۔آئی سی ایم اے رپورٹ کے مطابق دس روپے کےنوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے۔ دس روپے کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال ہے، ملک میں ہرسال چھپنےوالےمجموعی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ 10 روپے کے نوٹ پرمشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق دس روپے کا سکہ متعارف کرانے سے 10سال میں کم از کم 40 سے 50ارب روپے کی بچت ہوگی۔

اہم خبریں سے مزید