تہران ،کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) امریکااور اسرائیل کے ایران پر حملے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت بیشتر ایرانی فیصلہ ساز شہید کئے جاچکے ہیں ، ایران نے خامنہ ای کی شہادت کی تردید کی ہے،نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای نہیں رہے ، اسرائیلی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے گھر پر30بم گرائے گئے،اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ خامنہ ای کی بہو، داماد اور ایرانی وزیر دفاع بھی شہید ہوگئے ہیں ،ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعصابی جنگ ہے، ایران کی سرکاری نیوز ایجنسیوں تسنیم اور مہر نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ خامنہ ای "میدانِ جنگ کی کمان سنبھالے ہوئےہیں اور ثابت قدم اور پرعزم" ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباسی عراقچی نے کہا ہے کہ خامنہ ای زندہ ہیں،ایرانی ٹی وی کے مطابق خامنہ ای جلد قوم سے خطاب بھی کریں گے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی عسکری قیادت کا صفایہ کردیا گیا ہے ۔ امریکی اور اسرائیلی طیاروں کی صبح کے وقت9بجکر 27منٹ پر ایران کے دارالحکومت تہران سمیت 24صوبوں پر بمباری کی ہے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا،ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود احمد پزشکیان سمیت اعلیٰ ایرانی سیاسی وعسکری قیادت محفوظ رہی،ایرانی ہلال احمر کے مطابق حملوں میں201افراد شہید اور 747زخمی ہوگئے، امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے ہرمزگان کے ضلع ’’میناب‘‘ میں لڑکیوں کے اسکول پر بھی بمباری کردی جس کے نتیجے میں 85ایرانی طالبات شہیدہوگئیں،لامیرڈ میں اسپورٹس کمپلیکس پر بھی فضائی حملے میں 15شہری شہید ہوگئے ،ایران نے ملک بھر کی جامعات تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےاسکول پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وحشیانہ فعل ان جارح حملہ آوروں کے ہاتھوں سرزد ہونے والے ان گنت جرائم کے ریکارڈ میں ایک اور سیاہ باب ہے، ایرانی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افرا تفری سے گریز کریں اور تہران سے نکلنے کی کوشش کریں،امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے ، ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت رکوائے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں، دائمی امن صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے ، ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت قابل مذمت ہے۔ اقوام متحدہ تمام ممالک کو سیکورٹی ضمانت دیتا ہے ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد سیکورٹی خطرات کو ختم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار نہ کر سکے؛ انہوں نے ایرانی سیکورٹی فورسز سے اسلحہ ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ایرانیوں کو حکومت کا تختہ الٹنے کی دعوت دی۔ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں ، ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں تاہم تہران میں ہزاروں افراد حکومت کے حق اور امریکا اور اسرائیل کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے ۔ریپبلکنز نے بڑے پیمانے پر ایران پر حملوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن معروف ڈیموکریٹس نے اسے ’غیر قانونی جارحیت‘ قرار دے کر مذمت کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے جنگی آپریشنز ایپک فیوری کا اعلان کیا جبکہ اس کیساتھ ہی اسرائیل نے بھی میزائل حملوں کا اعلان کیا ۔امریکی صدر نے پاسداران انقلاب کو دھمکی دی ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں ورنہ آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ جنگ کو چند دنوں میں ختم کرسکتے ہیں اور اسے طویل بھی کرسکتے ہیں۔ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کیا ہے ۔امریکا نے دنیا بھر میں حساس مقامات پر موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ان کے 200طیاروں نے ایران میں 500اہداف پر بمباری کی ہے ۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکا فرسٹ کے بجائے اسرائیل فرسٹ کی پالیسی اپنا رکھی ہے، ایران دفاع اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہے ۔ ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کے بارے میں ٹرمپ کا پیغام "مشن امپاسیبل" (ناممکن مشن) ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی امریکی حملوں میں جو بھی شامل ہے وہ ایرانی فوج کا جائز ہدف ہے۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں صدارتی محل ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی رہائشگاہ اور اہم سرکاری عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق صدر احمدی نژاد کے گھر پر بھی بمباری کی گئی ہے تاہم ان کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔حملے کے بعد ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل سے بات چیت کی ہے۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائی سے کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا اور نقصان ’معمولی‘ ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حملے میں پہلی بار ’کم لاگت، یک طرفہ‘ (خودکش) ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا اور حکام نے مشترکہ فصائی حملوں میں ملک کے سینئر سیاسی حکام اور آرمی چیف کی شہادت کی تردید کی ہے۔ایرانی صدر کے ایگزیکٹو ڈپٹی نے ایکس پر لکھا کہ ’صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔‘صدر کے بیٹے یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ان کو قتل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔‘ایرانی فوج نے اپنے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کی شہادت کی تردید کی ہے اور فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔لاریجانی نے امریکا اور اسرائیل کو ’ناقابل فراموش سبق سکھانے‘ کا عہد کیا ہے۔ ٹرمپ نے حملے کے بعد اپنے بیان میں کاکہ میں صرف ایک محفوظ قوم چاہتا ہے اور اس کیلئے میں یہ سب کچھ کررہا ہوں ، انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں لوگوں کی آزادی چاہتا ہوں۔اردن کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے دو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا ہے۔اردن کے وزیر اطلاعات اور حکومتی ترجمان محمد معمانی نے بتایا کہ تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ ملک بھر میں مختلف مقامات پر گرا۔ایران نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراںادارے کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امریکا اور اسرائیل کے ان "بے بنیاد" دعووں پر بحث کی جا سکے جن میں کہا گیا ہے کہ تہران کا ایٹمی پروگرام ان کے خلاف فوجی کارروائی کے جواز کا حصہ تھا۔