کراچی ( زیب النساء برکی)ہفتہ کے روز ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملے محض میزائل تنصیبات یا بحری اثاثوں کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں تھے۔ بیشتر تجزیوں کے مطابق ان حملوں کا ہدف اسلامی جمہوریہ کے علامتی اور عملیاتی مرکز — یعنی آیت اللہ — کو بنایا گیا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 1989ء سے اس مرکز پر فائز ہیں۔ 1939ء میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے مشہد، نجف اور قم میں تعلیم و تربیت حاصل کی اور ممتاز علما کے زیرِ سایہ درس لیا، جن میں آیت اللہ روح اللہ خمینی بھی شامل تھے، جنہوں نے 1979ء میں محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹنے والی انقلابی تحریک کی قیادت کی۔ نوجوان عالمِ دین کی حیثیت سے خامنہ ای کو شاہ کی خفیہ پولیس نے ان کی سرگرمیوں کے باعث متعدد بار گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ 1981ء میں وہ قاتلانہ حملے میں بچ تو گئے، تاہم ان کا دایاں بازو مفلوج ہو گیا۔ 1980ء کی ہنگامہ خیز دہائی میں صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد، مجلسِ خبرگانِ رہبری نے انہیں آیت اللہ خمینی کے جانشین کے طور پر سپریم لیڈر منتخب کیا۔ ایران کے آئینی نظام کے تحت اس منصب کو مسلح افواج، عدلیہ اور اہم ریاستی اداروں پر حتمی اختیار حاصل ہے۔ یہ عہدہ سیاسی اور روحانی دونوں حیثیتوں کا حامل ہے اور یوں حکمرانی کے اعلیٰ ترین درجے پر مذہبی نگرانی کو یقینی بناتا ہے۔ تقریباً چار دہائیوں کے دوران خامنہ ای نے ایران کو جنگ، پابندیوں، خفیہ کارروائیوں اور اندرونی بے چینی کے متعدد ادوار سے گزارا۔ انہیں داخلی سطح پر احتجاجی لہروں کا بھی سامنا رہا — 2009ء کے متنازع انتخابات سے لے کر معاشی مشکلات کے خلاف مظاہروں اور 2022ء میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ہنگاموں تک، اور پھر رواں برس کے حالیہ احتجاج تک۔ ہر مرحلہ نظام کے لیے آزمائش ثابت ہوا، مگر کوئی بھی اسے ہلا نہ سکا۔ اس استحکام میں پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) اور بسیج نیم فوجی دستوں کی وفاداری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ خامنہ ای کی قیادت میں پاسدارانِ انقلاب ایک روایتی فوجی ادارے سے بڑھ کر ایک طاقتور سیاسی اور معاشی قوت میں تبدیل ہوئے، جو ایران کے سکیورٹی ڈھانچے میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ ان کا دفتر، جسے عموماً "بیت" کہا جاتا ہے، فوجی، انٹیلی جنس اور سیاسی حلقوں میں وفادار عناصر کے مضبوط اور منظم نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے۔