اسلام آباد/کراچی(نمائندہ جنگ/اسٹاف رپورٹر) کثیرالقومی اور بڑی مقامی کمپنیوں نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا ہے کہ سپر ٹیکس ختم کیا جائے، کارپوریٹ ٹیکس کو مرحلہ وار کم کیا جائے اور ایڈوانس و ودہولڈنگ ٹیکسوں کو معقول بنایا جائے تاکہ ٹیکس ادا کرنے والے منظم شعبوں پر بوجھ کم ہو سکے۔آئی ایم ایف کے دورہ کرنے والے جائزہ مشن نے (او آئی سی سی آئی) سے علیحدہ ملاقات کی، جو 200سے زائد کثیرالقومی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ Pakistan Business Council (پی بی سی) سے بھی بات چیت کی گئی، جو کراچی میں 110 بڑی مقامی اور غیرملکی کمپنیوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔ دونوں تنظیموں نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ قانون کی پابندی کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس کا بوجھ ٹیکس چوری کرنے والے شعبوں کے مقابلے میں غیر متناسب طور پر زیادہ ہے، جس سے ان کا کاروبار غیرمنافع بخش ہو رہا ہے۔پی بی سی نے پاکستانی معیشت کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے آئی ایم ایف مشن کے سامنے پانچ بڑی سفارشات پیش کیں۔ ان میں کارپوریٹ اور سیلز ٹیکس کی شرح میں فوری کمی، سپر ٹیکس کا خاتمہ، ایسوسی ایٹس و ذیلی کمپنیوں پر انٹرکارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس اور برآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ افراد پر انکم ٹیکس میں کمی کی بھی تجویز دی گئی۔دوسرا اہم مطالبہ توانائی کی قیمتوں میں فوری کمی تھا، جس میں پاور کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی اور صلاحیت کے بہتر استعمال سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کو شامل کرنے کی بات کی گئی۔ پی بی سی نے آئندہ متوقع افراطِ زر کے مطابق شرح سود میں کمی، سمندر پار پاکستانیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے زرمبادلہ کے حصول، اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینے کی تجویز دی تاکہ حکومتی بجٹ پر بوجھ کم ہو اور کارکردگی بہتر ہو۔پی بی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، کونسل کا ایک وفد جس کی قیادت چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے کی، نے آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کی جس کی سربراہی پاکستان کے لیے مشن چیف محترمہ ایوا پیٹرووا اور ریذیڈنٹ نمائندہ ماہر بینیچی کر رہے تھے۔