• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایپسٹین فائلز: مغربی تہذیب کی تباہی کا اعلان

جیفرے ایپسٹین نے اگر ایک طرف حرام کاری سے دولت کمائی، تو دوسری طرف، وہ اپنے دامن پر بدنامی کے اِتنے داغ لے کر گیا کہ کم ہی بدکرداروں کے حصّے میں آئے ہوں گے۔ نیز، اس کے سیاہ کارناموں کی رپورٹ عام ہونے سے اُس سے تعلق رکھنے والوں میں سے بعض کی رُوسیاہی اُن کا کردار ہی داغ دار نہیں کر گئی، بلکہ ان کے منصب اور کیریئر پر بھی متعفّن دھبّے لگا گئی۔ 

ان میں سب سے بُرا انجام برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے بھائی شہزادہ اینڈریو کا ہوا۔ امریکی عدلیہ کی طرف سے ایپسٹین فائلز طشت از بام ہوتے ہی سب سے پہلے شاہی خاندان سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بادشاہ نے اینڈریو کے تمام القابات اور اعزازات واپس لے لیے۔ اس کے تین چار روز بعد اُسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ اگرچہ رہا ہو چُکا ہے، لیکن کیس اُس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ 

وِنڈسر گریٹ پار کی تیس بتیس کمروں کی سرکاری رہائش گاہ، وِنڈسر رائل لاج بھی چِھن گئی۔ یہ سب سے سخت کارروائی ہے، جو ایپسٹین سے وابستہ کسی بڑی شخصیت کے خلاف ہوئی۔ شاہ چارلس خود بھی کوئی فرشتہ نہیں، لیکن اُس کی کسی حرکت سے کئی سو سالہ بادشاہت پر کوئی دھبّا نہیں لگا، جیسا اینڈریو کی ایپسٹین سے دوستی کی وجہ سے لگا ہے کہ مُلکی مفادات پر ضرب پڑی، قومی راز فاش ہوئے اور بادشاہت کے ادارے کا وقار مجروح ہوا۔ 

شاہ چارلس نے اپنے بھائی کو 2019ء میں متنبہ کیا تھا کہ جیفرے ایپسٹین کے دوست، ڈیوِڈ رولینڈ سے دُور رہے۔ وہ اینڈریو سے تعلق کی بنیاد پر اپنے مفادات کے لیے شاہی خاندان کا نام استعمال کر رہا ہے۔ یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ برطانیہ کے ولی عہد، شہزادہ ولیم نے بھی اپنے چچا کے کردار اور سرگرمیوں پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ اُن کے نزدیک یہ حرکتیں شاہی خاندان کے نام پر stain(دھبّے) ہیں۔

ایک خلیجی ریاست کے دو کردار بھی جیفرے ایپسٹین سے قربت اور دوستی رکھتے تھے۔ اُن میں سے ایک معروف ارب پتی شخصیت سلطان احمد بن سلیمان ہے، جو ایک سرکاری ادارے میں اونچے عُہدے پر متعیّن ہے۔ ایپسٹین فائلز کُھلنے کے بعد اُسے اپنے ادارے سے مستعفی ہونا پڑا۔ یہ واضح نہیں کہ حکومت نے اُسے عُہدے سے الگ کیا یا اُس نے از خود اپنی کمپنی اور ادارے سے علیحدگی اختیار کی۔ 

اسی ریاست کی ایک قابل، اعلیٰ تعلیم یافتہ،’’2020 Expo ‘‘میں خواتین پویلین پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کا عُمدہ مظاہرہ کرنے والی اور بہت معزّز گھرانے کی خاتون، ہند عبدالعزیز الاویس بھی ایپسٹین کے دوستوں میں سے تھی۔ وہ اقوامِ متحدہ میں حقوقِ نسواں کے شعبے سے وابستہ ہے۔ اُس نے جیفرے ایپسٹین کوای میل بھیجی کہ’’ میری چھوٹی بہن یہیں نیویارک میں ہے۔ میں نے اُسے تمہارے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے، وہ مجھ سے زیادہ خُوب صُورت ہے۔ 

مَیں چاہتی ہوں کہ تم اُس سے مل لو۔‘‘ نسوانی حیا، خاندانی شرافت اور منصبی وقار کا ذرّہ بھر بھی احساس ہوتا، تو یہ عورت، اپنی 14 سالہ چھوٹی بہن کو ایک بدکار اور جنسی استحصال میں بدترین شہرت رکھنے والے شخص کے سائے سے بھی بچاتی۔ جیفرے ایپسٹین سے متعلق یہ حقیقت نیویارک میں کسی سے پوشیدہ نہیں تھی کہ وہ ایک پُراسرار، کٹّر، یہودی اور اسرائیل کی خفیہ ایجینسی سے وابستہ تھا۔ 

سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود باراک جب امریکا آتا، تو کئی بار نیویارک میں اپنی اہلیہ سمیت ایپسٹین کے اپارٹمنٹ میں قیام کرتا۔ باراک، اسرائیل کی پرانی یہودی آبادی کو گنوار تصوّر کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ روس اور اُس کے تابع مشرقی یورپ کے ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں ’’مہذّب یہودی‘‘ لا کر اسرائیل میں آباد کیے جائیں۔ اس کے باوجود، مسلمان مُلک کی اہم شخصیات بڑے فخر سے اُس کے ساتھ گہرے روابط قائم رکھتی تھیں۔

ہند عبدالعزیز الاویس کے خلاف علانیہ طور پر اُس کی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی، البتہ اُس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ وہ اُس نے خود بلاک کر دیئے یا حکومت نے یہ اقدام کیا ہے۔ ہند عبدالعزیز الاویس کی ایک بہن ہَلا(Halah) الاویس نے ایک ہندو مرد، روہل کول سے رشتہ قائم کر لیا۔ سوشل میڈیا پر دونوں کی انتہائی فحش تصاویر شائع ہوئی ہیں۔ 

شارجہ امریکن یونی ورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری لینے والی اُن کی بڑی بہن، علیمہ حُمَید الاویس پراپرٹی ڈویلپر ہیں۔ والد کی وفات کے بعد اُنہوں نے’’الاویس ریئل اسٹیٹ کمپنی‘‘ کی بنیاد رکھی اوراس کی ڈائریکٹر ہیں۔ ممکن ہے، سب بہنیں والدہ کی طرف سے سگی نہ ہوں، لیکن اُن کی ہر حرکت، الاویس خاندان کی بدنامی یا نیک نامی کا سبب بنتی ہے۔ سعودی عرب کی ایک خاتون عزیزہ الاحمدی نے اس بدکردار، اوباش جیفرے ایپسٹین کو غلافِ کعبہ کے تین ٹکڑے تحفے میں بھیجے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کا کیا مقصد تھا۔

جیفرے ایپسٹین نے اپنی وراثت یا نقد رقم میں سے اپنے بھائی مارک ایپسٹین، سیکس ٹریفیکنگ میں اُس کی اہم معاون اور سزا یافتہ گیلین میکس ویل اور ہارورڈ یونی ورسٹی کے ریاضیاتی سائنس کے ایک پروفیسر کو حصّہ دینے کی وصیّت کی تھی۔ جیفرے ایپسٹین ایک مالی کا بیٹا تھا، جب کہ والدہ ایک گھریلو عورت تھی۔

خاندان کی طرف سے اُسے کوئی نقد رقم یا جائیداد نہیں ملی تھی، لیکن اُس نے اخلاقی اور مالی جرائم کے راستے بہت کچھ بنا لیا تھا۔ وہ ایک اہم بینک میں ملازم ہوا، جہاں بڑی بھاری، مال دار شخصیات کے اکاؤنٹس تھے۔ اُس نے ان سب افراد کے فون نمبرز اور پتے نوٹ کر لیے تھے۔ وہ کسی کو ٹیکس سے بچنے کی تدابیر بتاتا اور کسی کو انویسٹمینٹ کا راستہ دِکھاتا اور ان لوگوں سے consultancy(مشاورت) کے نام پر بھاری رقوم بٹور لیتا تھا۔ 

اُس نے کم عُمر لڑکیوں سے بدکاری کا جو سلسلہ قائم کر رکھا تھا، اُس میں وہ جن لوگوں کو یہ لڑکیاں فراہم کرتا، اُن سے اچھی خاصی رقم لیتا۔ جیل میں خود کُشی کے وقت اُس کے نقد اثاثوں میں577 ملین ڈالرز تھے۔اس رقم کے علاوہ Little Saint James اور Great Saint James Islands میں اس کے جزیرے تھے۔ نیویارک میں اُس کے بہت قیمتی اپارٹمنٹس الگ تھے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے جس طرح ہمارے مُلک کے تین، ساڑھے تین سو افراد کی آف شور کمپنیز تھیں یا اب بھی ہیں، جیفرے ایپسٹین نے بھی ایسی کمپنیز قائم کر رکھی تھیں۔

امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایپسٹین کی1980ء کے عشرے میں گہری دوستی تھی۔دونوں ہم مزاج تھے اور1990 ء کے عشرے سے2000 ء کے نصف تک ان میں کاروباری شراکت بھی رہی۔ دونوں میں ذاتی تعلق بھی تھا، کاروباری رقابت اور حسد بھی۔مگر 2004ء میں پام بیچ، فلوریڈا میں کچھ پراپرٹی کے معاملے میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ 

ایک رائے یہ بھی ہے کہ2007 ء میں جب ٹرمپ کو معلوم ہوا کہ ایپسٹین کم عُمر بچیوں کے جنسی استحصال جیسے جرائم میں ملوّث ہے، تو دونوں میں اختلافات شدید ہوگئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین کو اپنے کلب، Mar-a-Lago میں داخلے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد ٹرمپ، ایپسٹین کو’’ terrific gay‘‘ کہتا تھا اور ایپسٹین، ٹرمپ کو’’ dangerous‘‘ قرار دیتا رہا۔ 2019ء میں، جب اس کی دوسری بار گرفتاری ہوئی اور اُس نے خود کُشی کی، اُس وقت ٹرمپ ہی صدر تھے۔

اور اب جب عدلیہ نے ایپسٹین فائلز افشا کیں، تو اب بھی ٹرمپ امریکا کے صدر ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں، جن پر ایپسٹین کا بھائی مارک ایپسٹین کہتا ہے کہ ’’میرے بھائی نے خود کُشی نہیں کی، بلکہ صدر ٹرمپ نے اُسے قتل کروایا ہے۔‘‘جیفرے ایپسٹین کو دولت مند بنانے میں ایک مشہور کھرب پتی، لسلے ویکسنر(Leslie Wexner)نے اہم کردار ادا کیا۔

اُسی نے اِسے زمین سے اُٹھایا اور بلندی تک پہنچایا، البتہ خُود اُس کے جنسی طور پر بگاڑ کی کوئی شہادت موجود نہیں، جب کہ اُسے کوئی سزا بھی نہیں دی گئی۔ ویکسنر نے مقنّنہ کی تفتیشی کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ’’وہ بھولا بھالا،سیدھا سادہ اور ناسمجھ تھا، اِس لیے یہ سمجھ نہ سکا کہ ایپسٹین کس طرح میری دولت پر ہاتھ صاف کر رہا ہے اور کیسے میرا نام استعمال کر کے فائدہ اُٹھا رہا ہے۔‘‘

زیرِ بحث ایک شخص ہے، لیکن قابلِ غور پوری مغربی تہذیب اور نظام ہے۔ گِبن (Gibbon) نے رومی تہذیب کا جو جائزہ پیش کیا، اُس کے مطابق یہ تہذیب تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک قائم رہی۔ مغربی رومن تہذیب چار سو سال بعد اپنے انجام کو پہنچی اور مشرقی روما تہذیب مزید ایک ہزار سال قائم رہ کر مسلمانوں کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ یونانی تہذیب پر بھی چار سو قبلِ مسیح سے زوال کے سائے گہرے ہونا شروع ہوئے اور 146عیسوی میں یہ حتمی زوال کی دلدل میں دھنس گئی۔

قدیم بخامشی فارسی سلطنت اور تہذیب دو، سوا دو سو سال میں اپنے انجام کو پہنچ گئی تھی، البتہ ساسانی سلطنت اور تہذیب چار صدیوں تک قائم رہی۔ان ساری تہذیبوں میں مشترک قدر لہوولعب، مال و دولت، حرص وہوس، جسمانی لذّات، صنفی اور شِکمی شہوات اورعیش و نشاط تھی۔ جنسی بے راہ روی اور بدکاری میں بھی سب یک ساں تھیں۔ 

روحانیت و باطنیت، ایمان واخلاق، عاقبت و آخرت اور حساب کتاب کے بارے میں سب کا اپنا اپنا عقیدہ تھا۔ ہندو مت نے تناسخ کا عقیدہ اختیار کیا اور عیسائی پادریوں نے یہ اعتقاد تراشا کہ حضرت عیسیٰؑ نے مصلوب ہو کر سارے انسانوں کے گناہ بخشوا دیے۔ سب تہذیبوں میں خُدا کو’’پیکرِ محسوس‘‘ میں دیکھنے کے لیے کسی نے بُت تراش لیے، کسی نے تصویریں اور مجسمے بنالیے۔ اِس لحاظ سے وہ حقیقی خدا کی منکر تھیں۔

یہ دَور، جدید مغربی تہذیب کا ہے، جو 14 ویں سے 17 ویں صدی کے درمیان تحریکِ احیائے علوم (Renaissance) کی روشنی میں ڈھیروں نئے نظریات اور افکار لے کر وجود میں آئی۔ پہلے برطانوی استعمار اس کا سرپرست تھا، جب کہ اس کے’’ پُر کشش کلچر‘‘ کا خالق فرانس تھا۔ اب اس تہذیب کا نگہہ بان امریکا ہے۔ فلک بوس عمارتیں، پانچ، سات ستارہ اور ڈیلیکس ہوٹلز، نائٹ کلبز، سینما گھر، شاپنگ مالز، سُپر اسٹورز، تفریح گاہیں اور بیوٹی پارلرز اس تہذیب کے نظر فریب مظاہر ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے ایک اور پیرائے میں کہا تھا؎ وجودِ زَن سے ہے کائنات میں رنگ…اِسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں۔ اِس تہذیب نے’’وجودِ زن‘‘ کی حشر سامانیوں کو اپنی بنیاد بنا لیا۔ لذّت پرستی، نفسانی خواہشات، دنیاوی آسائشیں، شہوانیت، بے حیائی، بدکاری، عریانی، فحاشی، بدکاری جیسے رجحانات اور افعال اس تہذیب کی شناخت ہیں۔ کوئی مقام ایسا نہیں، جہاں نسوانیت جلوہ گر نہ ہو۔ کوئی ٹی وی اسکرین، کوئی سڑک اور عمارت، کوئی دیوار، بازار اور مارکیٹ اشتہاری بورڈز سے خالی نہیں اور کوئی اشتہار ایسا نہیں، جس میں عورت کو ذریعۂ نمائش نہ بنایا جاتا ہو۔

صنعت کار اپنی مصنوعات کے لیے عورت کے وجود ہی کو ترغیب کا ذریعہ بناتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی محکمۂ عدل کی طرف سے جیفرے ایپسٹین کی لاکھوں اِی میلز اور فون کالز کے افشا میں جھانکیں، تو عورت ہی جلوہ گر نظر آتی ہے۔ جیفرے ایپسٹین کی داستان دولت، رقابتوں، سازشوں، لذّت پرستی، نسوانی وجود اور بدکاری سے عبارت تھی۔ جنسی ہوس، کمینگی اور سفلہ پن بل کلنٹن سمیت کئی سابق اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سب کا قماش ہے۔

ماں، بہن اور بیٹی کے رشتے شریعتِ اسلامی کی رُو اور فطرتِ انسانی کے پہلو سے بے حد مقدّس ہیں، لیکن اِس تہذیب نے ان رشتوں کا تقدّس بھی مِٹا دیا۔ دوسری بار صدارت کے عُہدے پر فائز ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدکاری کے ضمن میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ جزیرہ نیٹ کے مطابق، اُس نے ایک بار کہا کہ’’ میری بیٹی ایوانکا (Evanka) کا جسم بہت خُوب صُورت اور پُرکشش ہے۔

اگر وہ میری بیٹی نہ ہوتی، تو میں اُس سے بھی datingکرتا۔‘‘ ایپسٹین فائلز ابھی مکمل طور پر منظرِ عام پر نہیں آئیں، جتنی کھُلی ہیں، اُن میں بے شمار بظاہر معزّز نظر آنے والے افراد اِتنی گھٹیا سطح پر نظر آتے ہیں کہ محض سوچ کر بھی گِھن آتی ہے۔ لفظ ’’نوبل‘‘ سے نیکی، پاکیزگی اور شائستگی و تہذیب جھلکتی ہے، لیکن تازہ ترین خبر ہے کہ ناروے کے سابق وزیرِ اعظم اور نوبل امن کمیٹی کے سابق چیئرمین، تھورجورن جیگلینڈ بھی جیفرے ایپسٹین کے بدکاری کے اڈّے سے وابستہ رہے۔

اپنا نام اِس لسٹ میں دیکھ کر اُنہیں بدنامی کا اِتنا احساس ہوا کہ خُود کُشی کی کوشش جیسا انتہائی قدم اُٹھا لیا۔ نظر یہی آتا ہے کہ یہودیت نے مغربی دنیا کو بگاڑ اور فساد کی اُس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ اُس کی تہذیب اُسی طرح مِٹے گی، جیسے سابقہ تہذیبوں کے مِٹنے کا تذکرہ ہوا ہے۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید