اسلام آباد ( رانا غلام قادر،طاہر خلیل) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہے،پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنا ہوگا، ہم کسی کو اپنا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے،صدر مملکت نے کہا کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خودمختاری کا تحفظ ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بناناہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے سالانہ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی مذمت کی۔ صدر مملکت کے خطاب کے دور ان اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج، ’’گو زرداری گو‘‘ کے نعرے لگائے۔ صدرمملکت نے کہاکہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ بحیثیت دو مرتبہ منتخب صدر انہوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر اس معزز ایوان سے نویں مرتبہ خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کہاکہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری، مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے، ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان نے برادر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے حمایت کا اعادہ کیا ہے،ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کرتا ہوں،دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔صدرمملکت نے کہاکہ خطے کو مزیدبحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اورمذاکراتی حل پر زور دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی ہمسائیوں میں کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہیں ،یہ تباہ کن جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی ۔