اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کے گریڈ ایک سے پندرہ تک کے 200ملازمین کو ریگولرائز کرنے کی درخواست پر محفوظ کر لیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ این سی سی آئی اے کل تک جواب جمع کرا دے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی آئی اے کے ڈی جی خرم علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بلانے کا مقصد یہ ہے کہ جتنے بھی لوگ ہیں وہ پاکستانی ہیں، ان شہریوں کو ویکٹیمائز نہیں ہونا چاہئے، نئے لوگ رکھیں گے تو کل نئی حکومت آئے گی ان کو ہٹا دے گی، یہ ویکٹمائزیشن ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی آئی اے کے ملازمین کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن پیش ہوئے جبکہ عدالتی طلبی پر این سی سی آئی اے کے ڈی جی خرم علی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا ہے ابھی ملازمین سے متعلق این سی سی آئی اے کس سطح پر ہے؟ ڈی جی نے بتایا کہ ہم نے رولز ڈرافٹ کر لئے ہیں اور منظوری کے لئے بھیجے ہیں۔