کراچی (محمد عسکری،اسٹاف رپورٹر) کراچی کے سرکاری ڈگری کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور الحاق شدہ کالجوں کے پرنسپلز کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پروگرام کے تعلیمی ڈھانچے اور امتحانی نظام سے متعلق امور پر غور کے لیے طلب کیا گیا اجلاس شدید اختلافِ رائے کا شکار ہوگیا اور بالآخر کالج پرنسپلز نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کی زیرِ صدارت جاری نشست کا بائیکاٹ کر دیا۔ پرنسپلز اجلاس گاہ سے باہر نکل آئے، جس کے نتیجے میں اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ہی ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبۂ امتحانات کی جانب سے بدھ کی صبح ڈگری کالجوں کے پرنسپلز کو ایک اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کی۔ اجلاس کا مقصد ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے نصاب اور اسکیم آف اسٹڈیز سے متعلق موجود ابہامات کو واضح کرنا تھا، تاہم گفتگو کے دوران بائی اینوئل اور سیمسٹر سسٹم کے نفاذ کا مسئلہ نمایاں ہو کر سامنے آگیا۔ اجلاس میں کالج پرنسپلز نے مؤقف اختیار کیا کہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے اس معاملے کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور اس کے بعض اراکین بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ اس کمیٹی کے کنوینر اور آدم جی سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ناصر اقبال نے بتایا کہ کمیٹی نے اجلاس میں اس امر کی نشاندہی کی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق یہ پروگرام سیمسٹر نظام کے تحت ہونا چاہیے، تاہم جامعہ کراچی نے اسے بائی اینوئل طریقۂ امتحان کے تحت نافذ کر دیا ہے۔ ان کے بقول کالجوں کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ بائی اینوئل نظام کو مزید ایک برس کے لیے مؤخر کر دیا جائے اور بعد ازاں پروگرام کو سیمسٹر نظام کے تحت منتقل کیا جائے تاکہ سیمسٹر امتحانات کے پچاس فیصد نمبروں کے امتحانات کالج خود منعقد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کالج پرنسپلز نے اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی مگر ان کے مطابق وائس چانسلر اس حوالے سے کوئی لچک دکھانے پر آمادہ نہیں تھے اور ان کی تجاویز کو قبول نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اس حوالے سے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی درخواست پر بائی اینوئل امتحانی نظام کے نفاذ کو ایک سال کے لیے ملتوی کیا گیا تھا، تاہم اب بعض کالج پرنسپلز اس سال بھی اسے مؤخر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کالج انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جامعہ کراچی نے بائی اینوئل نظام متعارف کروا کر ایچ ای سی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ ایچ ای سی جامعات کو محض رہنما اصول فراہم کرتی ہے اور کسی بھی نظام کے نفاذ کا اختیار جامعہ کی اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ کو حاصل ہوتا ہے۔وائس چانسلر کے مطابق جامعہ کراچی نے اجلاس میں کالج پرنسپلز کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اگر نصاب یا دیگر امور میں کوئی عملی دشواری درپیش ہے تو وہ براہِ راست ان سے رابطہ کریں تاکہ اس مسئلے کا فوری حل نکالا جا سکے، تاہم ان کے بقول جب بعض شرکاء گفتگو سننے کے لیے آمادہ نہ ہوں تو ایسے حالات میں تعمیری پیش رفت ممکن نہیں رہتی۔ پروفیسر ناصر اقبال کا مزید کہنا تھا کہ نصاب کے حوالے سے بھی کالج پرنسپلز کو واضح رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی اور انہیں کبھی افیلی ایشن سیکشن، کبھی ڈین آفس اور کبھی مختلف شعبہ جات کے سربراہان کے پاس بھیجا جاتا ہے، تاہم عملی مسائل بدستور برقرار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اسی صورتحال کے باعث کالج پرنسپلز نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور سماعت گاہ سے باہر آ گئے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی سفارشات تحریری طور پر رجسٹرار جامعہ کراچی کو بھی پیش کر دی ہیں۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بعض ایسے کالج اساتذہ بھی موجود تھے جو باضابطہ طور پر کالج پرنسپل نہیں تھے، جس پر جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اعتراض بھی اٹھایا۔