کراچی(اسٹاف رپورٹر) کے ڈی اے کے طاقتور افسروں نےپانچ قیمتی پلاٹوں کو مبینہ جعلسازی سے ٹھکانے لگانے پر بنائی گئی انکوائری کمیٹی کو تاحال ریکارڈ فراہم نہیں کیا ذرائع کےمطابق وزیر بلدیات سندھ نے ڈی جی کوجعلساز مافیا کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کے ساتھ ساتھ کیسز بناکر اعلی تحقیقاتی اداروں کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے نے ایک ماہ قبل گلستان جوہر اسکیم36کے دو پلاٹ جس میں پلاٹ نمبرB-70بلاک6،پلاٹ نمبرA-104 بلاک6،کورنگی ٹائون شپ کے دو پلاٹ جس میں پلاٹ نمبرN-75اورN-46سیکٹر 44-B جبکہ فیڈرل بی ایریا کے پلاٹ نمبر BS-57 بلاک7 اسکیم16 کے پلاٹوں کو مبینہ جعلسازی سے ٹھکانے لگائے جانے پر وزیر بلدیات سندھ کی منظوری سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی تاہم محکمہ لینڈ کے کے ڈی اے نے جعلسازی کا بھانڈا پھوٹنے اور ملوث افسران کے بے نقاب ہونے سے قبل مذکورہ پانچ پلاٹوں میں سے چار پلاٹوں کی ٹرانزیکشن منسوخ کرنے کا لیٹر جاری کردیا جبکہ گلستان جوہر کے ایک پلاٹ جس کا نمبرB-70بلاک6 ہے اسے تاحال منسوخ نہیں کیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ400گز رقبے کے مذکورہ پلاٹ کو منسوخی سے بچانے کیلئے جعلساز مافیا مختلف حربے استعمال کررہی ہے۔