میامی (اے ایف پی/نیوزڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ "تقریباً مکمل" ہو چکی ہے اور امریکا اپنے ابتدائی طور پر طے کردہ ایک ماہ کے ٹائم فریم سے بہت آگے ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوزکو انٹرویو میں کیا ۔ٹرمپ کے ان ریمارکس کے بعد امریکی اسٹاکس میں تیزی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ۔صدرٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے کو فون پر بتایاکہ میرا خیال ہے کہ جنگ بہت حد تک مکمل ہو چکی ہے‘ ان کے پاس اب نہ بحریہ ہے، نہ مواصلاتی نظام اور نہ ہی کوئی فضائیہ باقی بچی ہے ۔ ان کے میزائل اب صرف اکا دکا رہ گئے ہیں۔ ان کے ڈرونز ہر جگہ تباہ کیے جا رہے ہیں بشمول ان کی ڈرون تیار کرنے والی تنصیبات کے۔ اگر آپ دیکھیں تو ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا، فوجی لحاظ سے اب وہاں کچھ باقی نہیں رہا۔امریکی صدر نے بتایا کہ امریکا اپنے ابتدائی چار یا پانچ ہفتوں کے جنگی ٹائم فریم سے بہت آگے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا یہ حالیہ بیان امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے تو "ابھی لڑنا شروع کیا ہے"۔سی بی ایس کے مطابق جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، تو انہوں نے جواب دیاکہ جنگ کا خاتمہ صرف میرے ذہن میں ہے کسی اور کے نہیں ۔ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش پردھمکی دیتے ہوئےکہاکہ وہ آبنائے ہرمزپر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہاں ٹریفک بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔تاہم امریکی صدر نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے زیادہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ انہوں نے کہاکہ میرے پاس ان کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے بالکل بھی نہیں۔