ٹوکیو (عرفان صدیقی)استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی،پاکستان زرمبادلہ سے محروم، سالانہ 500ملین ڈالر نقصان ،وزیراعظم فوری نوٹس لیں،اوورسیز پاکستانیوں کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کے باعث ملک سالانہ تقریباً پانچ سو ملین ڈالر کے قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہو رہا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وزارتِ تجارت اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی پالیسیوں اور تاخیر کے باعث نہ صرف گاڑیوں کی درآمد تقریباً رک چکی ہے بلکہ حکومت کو حاصل ہونے والا اہم ریونیو بھی متاثر ہوا ہے۔گزشتہ دہائیوں سے حکومت پاکستان اوورسیز پاکستانیوں کو یہ سہولت فراہم کرتی رہی ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے لئے بھاری ڈیوٹی ادا کر کے استعمال شدہ گاڑیاں ملک میں لا سکتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کو ہر سال صرف ڈیوٹی کی مد میں تقریباً پانچ سو ملین ڈالر کا ریونیو حاصل ہوتا تھا، جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اہم اضافہ کرتا تھا۔