بیجنگ،اسلام آباد (نیوزایجنسیاں) چین ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کیلئے متحرک ،سفارتی کوششیں بھی تیز کر دیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع اور مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورمکالمے کے ذریعے طے کریں، پاک افغان اختلافات خطے کے امن و استحکام کیلئے نقصان دہ ہوگا، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا افغانستان کسی ملک سےفوجی تصادم نہیں چاہتا، انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی سفارتی کوششوںکی تعریف کی، دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر ’سرخ لکیر عبورکرلی ہے، مسلح افواج اور سیکورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، آئی ایس پی آرکا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان پر ڈرون حملے کیے، ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا، ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں 2 بچے زخمی ہوئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں بھی ایک، ایک شہری زخمی ہوا، جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ پاکستانی پوسٹوں پر قبضے اور نقصانات کے دعوئوں میں کوئی صداقت نہیں، طالبان رجیم افغان عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ چینی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ رابطہ افغان وزیر خارجہ کی درخواست پر کیا گیا جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور خصوصاً ایران کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وانگ یی نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ گفتگو کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغان عوام طویل جنگوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور اب امن اور ترقی کے مواقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے میں بدامنی نہیں بلکہ امن کا ذریعہ بننا چاہتا ہے اور اس کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائیگی۔ امیر خان متقی نے مزید کہا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مشاورت ہی واحد راستہ ہے اور امید ہے کہ چین ایک بڑے دوست ملک کی حیثیت سے اس سلسلے میں مزید فعال کردار ادا کرے گا۔ وانگ یی نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول میں خطے کے ممالک کو اتحاد اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ چینی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد براہ راست مذاکرات کی طرف بڑھیں گے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کریں گے۔ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی مثبت کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے۔ علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم غیر قانونی حکومت مسلسل اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اب اس حکومت میں اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔