کراچی(رفیق مانگٹ)ترکیہ اگلا بڑا علاقائی چیلنج؟ اسرائیلی اور امریکی حلقوں میں بحث شروع، اسرائیلی سیاستدانوں اور امریکی تھنک ٹینکس میں ترکیہ کے بڑھتے کردار پر تشویش ،سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینٹ کے مطابق ترکیہ ایران جیسا نیا اتحاد تشکیل دے رہا ہے، امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی سیاسی حلقوں اور واشنگٹن کے تھنک ٹینکس میں ایک نئی بحث ابھر رہی ہے جس میں ترکیہ کو مستقبل میں اسرائیل کے لیے اگلا بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ کو نیا ایران قرار دینا خطرناک اور گمراہ کن حکمت عملی ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اسرئیلی میڈیا ، الجزیرہ اور دیگ ماہرین نے بھی اسی طرح رپورٹ کیا کہ ایران کے بعد ترکیہ کو اگلا بڑا علاقائی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔فارن پالیسی کےجیو پولیٹیکل تجزیہ کار بوبی گھوش کے مطابق ایران کے خلاف حملوں کے دوران ہی اسرائیلی سیاسی حلقوں میں یہ آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں کہ اب اگلا خطرہ ترکیہ ہو سکتا ہےاسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ جو دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں، نے کہا کہ انقرہ ایک ایسا محور تشکیل دے رہا ہے جو ایران کے اتحاد سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو بیک وقت تہران اور انقرہ دونوں سے آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ایک نئے علاقائی اتحاد کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے ہیکساگون اتحاد قرار دیا۔ اس مجوزہ اتحاد میں یونان اور قبرص جیسے ممالک شامل کیے جا سکتے ہیں۔