کراچی (نیوز ڈیسک)امریکا و اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے 23ویں روز اسرائیل دو بڑے شہروں میں جوہری تنصیبات کے قریب ایرانی جوابی میزائل حملوں سے بڑی تباہی ، کم از کم 6افراد ہلاک اور 175زخمی ہوگئے،اسرائیلی دفاعی میزائل نظام ایرانی میزائل روکنے میں ناکام رہا، جنوبی اسرائیلی شہر دیمونا اور عراد میں بڑی تباہی ، کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں،عراد میں بیلسٹک میزائل حملوں میں 100افراد زخمی اور 6ہلاکتوں کی اطلاعات ہے جبکہ دیمونا میں78افرادزخمی ہوئے ہیں، یہ دونوں علاقے ایک اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب واقع ہیں، اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسے ’اسرائیلی کے لئے مشکل شام‘ قرار دیا ہے،ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل عبداللہی کا کہنا ہے کہ ایران کا فوجی نظریہ دفاع سے بدل کر جارحانہ جنگ کا ہو چکا ہے اور حکمت عملی بھی اسی کے مطابق ڈھال لی گئی ہے۔ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ دشمن کے مکمل سرنڈر تک جنگ پوری شدت اور طاقت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی،ترجمان کے مطابق آج خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں دشمن کے کسی جہاز کا کوئی نشان نہیں ملا،انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت ایرانی قوم، جنگجوؤں اور مزاحمتی محاذ کی مکمل فتح تک جاری رہے گی، ایران نے ہرمز کےقریب F-15طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) کو نشانہ بنایا ہے، جو کہ ریاست کی ملکیتی جنگی اور ایرو اسپیس کمپنی ہے،پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید ماجد موسوی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں پر ایران کے بیٹوں کا غلبہ قائم ہو گیا ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا کے ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے پرحملےکے بعد سے وسطی ایران پر فضائی حملوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے،ایرانی ٹی وی کاکہنا ہے کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی ڈرونز کی جاسوس پروازیں تاحال جاری ہیں،شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کےراکٹ حملےمیں ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا،دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران اور لبنان پر خوفناک بمباری کا سلسلہ جاری رہا،ایران میں شہداء کی تعداد 1500سے زائد ہوگئی ہے جبکہ لبنان میں شہداء کی تعداد 1029ہوگئی ہے ،اسرائیلی طیاروں نے لبنان میں دریائے لیتانی کے اوپر قائم اہم رابطہ پل بمباری سے تباہ کردیا ہے،امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تہران کے گردونواح میں زور دار دھماکے سنے گئے،ایرانی میڈیا کے مطابق پردیس اور دماوند میں کئی دھماکے ہوئے، دماوند میں ایران کے سب سے بڑے بجلی گھروں میں سے ایک موجود ہے،برطانوی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانوی جوہری آبدوز نے بحیرہ عرب میں پوزیشن سنبھال لی ہے، برطانوی اخبار کے مطابق برطانوی جوہری آبدوز ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لیس ہے،ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل عبداللہی کا کہنا ہے کہ ایران کا فوجی نظریہ دفاع سے بدل کر جارحانہ جنگ کا ہو چکا ہے اور حکمت عملی بھی اسی کے مطابق ڈھال لی گئی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید ماجد موسوی نے کہا ہے کہ اب اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں پر ایران کے بیٹوں کا غلبہ قائم ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی حکمت عملی اور لانچ سسٹم سے امریکی اور صیہونی کمانڈر حیران رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نئے تیار کردہ جدید ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے اندازوں کو الٹ دیں گی۔میجر جنرل عبداللہی کا کہنا ہے کہ نوجوان سائنسدانوں کے تیار کردہ جدید ترین ہتھیار پہلے ہی میدانِ جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں اور مزید حیران کن اقدامات بھی سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد اور عوامی حمایت ایران کی طاقت اور مستقبل کی کامیابیوں کے بنیادی عوامل ہیں۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ جارح ممالک آزاد ایرانی قوم کاعزم نہیں توڑ سکتے۔ابو عبیدہ نے کہا کہ ایرانی میزائل مجرم اسرائیل پرگرتے دیکھ کر بہت خوش ہیں، یہ غزہ کے ہزاروں شہیدوں کے قتل عام کا ردعمل بھی ہے۔القسام بریگیڈ کے ترجمان نے مزید کہا کہ نازی صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔اپنے بیان میں ابو عبیدہ نے کہا کہ ایران تمام اسلامی ممالک کی اولین لائن آف ڈیفنس ہے، ایران کی طاقت کا استعمال نہ ہو تو اسرائیل ایک کے بعد دوسرے مسلم ملکوں پر چڑھ دوڑے۔ترجمان القسام بریگیڈ نے کہا کہ مسلم اُمہ اسرائیل اور امریکا کےخلاف متحد ہوجائے۔ایرانی میڈیا کےمطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نےہرمز جزیرےکےقریب دشمن کے ایف 15 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔